صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #1739 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

فوت شدہ بیوی کا چہرہ دیکھنا ، جنازے کو کندھا دینا اور قبر میں اتارنا کیسا؟

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: September 18, 2025
0 11,444

سوال (Question):

فوت شدہ بیوی کا چہرہ دیکھنا ، جنازے کو کندھا دینا اور قبر میں اتارنا کیسا؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

فوت شدہ بیوی کا چہرہ دیکھنا ، جنازے کو کندھا دینا اور قبر میں اتارنا کیسا؟

سوال : بیوی کے انتقال کے بعد شوہر اس کا چہرہ دیکھ سکتا ہے یا نہیں ؟نیز کیا اس کے جنازے کو کندھا بھی دے سکتا ہے  اور قبر میں بھی اتار سکتا ہے ؟ سائل: محمد اسید نوری ممبی اَلْجَوَابُ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ عورت کے انتقال کے بعداس کے شوہر کا عورت کے بدن کو بلاحائل ہاتھ لگانا منع ہے۔بقیہ  اس کے چہرے کودیکھنا یا اس کے جنازہ کو کندھا دینا اور قبر میں اُتارنا  یہ سب جائز ہے ، اس میں شریعت ِ  مطہرہ کی طرف سے کوئی ممانعت نہیں ۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا: اگر عورت مر جائے تو شوہر اس کے جنازے کو ہاتھ لگائے یا نہیں؟اس کے جواب میں آپ فرماتے ہیں: ” جنازے کو محض اجنبی ہاتھ لگاتے، کندھوں پر اُٹھاتے، قبر تک لے جاتے ہیں، شوہر نے کیا قصور کیا ہے۔یہ مسئلہ جاہلوں میں محض غلط مشہور ہے۔ہاں شوہر کو اپنی زنِ مردہ کا بدن چھونا ، جائز نہیں، دیکھنے کی اجازت ہے۔کمانص علیہ فی التنویر والدر و غیرھما ۔اجنبی کو دیکھنے کی بھی اجازت نہیں۔محارم کو پیٹ، پیٹھ اور ناف سے زانوتک کے سوا چھونے کی بھی اجازت ہے۔“ اسی سے متصل ایک اور سوال ہوا : زوجہ کا جنازہ شوہر کو چھونا کیسا ہے؟ چھونا چاہئے یا نہیں؟ شوہر کا اپنی زوجہ کا منہ قبر میں رکھنے کے بعددیکھنا کیسا ہے ،چاہئے یا نہیں؟اس کے جواب میں آپ علیہ الرحمۃ تحریرفرماتے ہیں:” شوہر کو بعدِ انتقالِ زوجہ قبر میں خواہ بیرونِ قبر اس کا منہ یا بدن دیکھنا جائز ہے، قبر میں اتارنا ، جائز ہے اور جنازہ تو محض اجنبی تک اٹھاتے ہیں، ہاں بغیر حائل کے اس کے بدن کو ہاتھ لگانا شوہر کو ناجائز ہوتا ہے۔ زوجہ کو جب تک عدت میں رہے شوہر مردہ کا بدن چھونا بلکہ اسے غسل دینا بھی جائز رہتا ہے۔یہ مسئلہ درمختار وغیرہ میں ہے۔“ (فتاویٰ رضویہ جلد9،صفحہ138 ) صدرالشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمہ اللہ تحریرفرماتے ہیں: ”عوام میں جو یہ مشہور ہے کہ شوہر عورت کے جنازہ کو نہ کندھا دے سکتا ہے نہ قبر میں اتار سکتا ہے نہ مونھ دیکھ سکتا ہے، یہ محض غلط ہے صرف نہلانے اور اسکے بدن کو بلاحائل ہاتھ لگانے کی ممانعت ہے۔“ (بہارِ شریعت ، جلد1،صفحہ 813) وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم کتبــــــہ : مفتی محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat