لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

شبِ معراج میں عبادت کرنا کیسا ہے اور اس کی کیا فضیلت ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

بڑی راتوں میں عبادت | شبِ معراج میں عبادت کرنا کیسا ہے اور اس کی کیا فضیلت ہے؟

الجواب: شبِ معراج شریف میں عبادت کرنا جائز ومستحسن ہے،اس میں عبادت کرنے کی فضیلت بیان کرتے ہوئے عار ف باللہ شیخ محقّق شیخ عبدُالحق محدّث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ حدیث نقل فرماتے ہیں :’’رجب میں ایک ایسی رات ہے جس میں عبادت کرنے والے کیلئے سوسال کی نیکیوں کا ثواب لکھا جاتا ہےاور یہ رجب کی ستائیسویں رات ہے،جو اس رات بارہ رکعت نوافل اس طرح اد اکرے کہ ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ پڑھے اورسُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ ولَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرسو دفعہ پڑھے اور اللّٰہ تعالیٰ سے سو دفعہ استغفار کرے اور نبی پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم پر سو بار درود پڑھے اور اپنے لیے دنیا وآخرت میں سے جو چاہے مانگے اور صبح کو روزہ رکھے تو بے شک اللّٰہ تَعَالٰی اس کی سب دعاؤں کو قبول فرمائے گا،سوائے اس دعا کے جو گناہ کی ہو،اس روایت کو امام بیہقی رَحْمَةُ اللهِ تَعَالٰی عَلَيْهِنے ’’شعبُ الایمان‘‘ میں ابان سے اور انہوں نے حضرت سیّدُنا انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کیا۔‘‘ [1]

سوال: شبِ براءت کی فضیلت و اہمیت کیاہے؟

الجواب: اس کی فضیلت میں مُتعدَّ د احادیث مَروی ہیں حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایاکہ جب شعبان کی پندرھویں رات ہو تو رات کو جاگا کرو اور اس کے دن میں روزہ رکھو جب سورج غروب ہوتا ہے تو اس وقت سے اللّٰہ تَعَالٰی آسمانِ دنیا کی طرف نُزولِ رحمت فرماتاہے اور اعلان کرتاہے کہ ہے کوئی مغفرت طلب کرنے والا تاکہ میں اس کوبخش دوں ، ہے کوئی رِزق طلب کرنے والا تاکہ میں اس کورِزق دوں ،ہے کوئی مصیبت زَدہ تاکہ میں اس کواس سے نجات دوں ۔یہ اعلان طلوعِ فجر تک ہوتا رہتا ہے۔[2] اسی طرح امُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْھَا سے مروی ہے فرماتی ہیں کہ ایک رات میں نے حضور کو اپنے بستر پر نہ پایا تو میں حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کی تلاش میں نکلی میں نے حضو ر عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جنّتُ البقیع میں پایا، حضور سرورِ کائنات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:’’اللّٰہ تَعَالٰی نصف شعبان کی رات کو آسمانِ دنیا کی طرف نُزولِ رحمت فرماتاہے اور قبیلۂ بنی کَلب کی بکریوں کے بالوں سے بھی زیادہ لوگوں کو بخش دیتا ہے۔[3]

سوال: بڑی راتوں میں جمع ہوکر عبادت کرنا کیسا ہے ؟

الجواب: جائز ومستحسن ہے ۔ فتاویٰ رضویہ میں بحوالہ لَطائِفُ المعارِف ہے:’’اہلِ شام میں آئمہ تابعین مثل خالد بن مَعدان و امام مکحول و لقمان بن عامر وغیرہُم (رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْھِم) شبِ براءت کی تعظیم اور اس رات عبادت میں کوششِ عظیم کرتے اور انہیں سے لوگوں نے اس کا فضل ماننا اور اس کی تعظیم کرنا اَخذ کیا ہے۔‘‘[4]

سوال: ان راتوں میں مساجد کو سجانا کیسا ہے ؟

جواب:جائز ومستحسن ہے کیونکہ اس سے مقصود اس رات کی تعظیم ہوتا ہے اور بحوالہ لطائِفُ المعارف گزر چکا کہ ائمہ تابعین اس رات کی تعظیم کیا کرتے تھے۔ (بنیادی عقائد اور معمولاتِ اہلسنت،حصہ دوم،صفحہ۱۱۷تا۱۱۹) [1] ۔۔۔۔ ما ثبت بالسنۃ، ص۱۵۰،شعب الإیمان، باب فى الصيام، تخصيص شهر رجب بالذكر، ۳ / ۳۷۴، حدیث:۳۸۱۲ [2] ۔۔۔۔ ابن ماجہ،کتاب اقامة الصلاة،باب ماجاء فی لیلة النصف من شعبان،۲ / ۱۶۰،حدیث:۱۳۸۸ [3] ۔۔۔۔ ترمذی،کتاب الصوم،باب ماجاء فی ليلة النصف من شعبان،۲ / ۱۸۳،حدیث: ۷۳۹ [4] ۔۔۔۔ فتاوی رضویہ،۷ / ۴۳۳) وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم کتبـــــہ : مفتی محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات