بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1735 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
قرض میں دی گئی رقم کی زکاۃ نکالنا کس پر واجب ہے؟
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ زید نے بکر کو کچھ روپیہ بطور قرض آٹھ ماہ کے لیے دیا مگر اس نے وہ روپیہ 8 ماہ کی بجائے تین سال پر ادا کیا ۔ زید ہر سال ان روپیوں کی زکوۃ نکالتا رہا ۔ تو کیا زکوۃ میں دی گئی رقم بکر سے پانے کا حقدار ہے ؟ الجوابــــــــــــــــــــ جس آدمی کا روپیہ کسی کے ذمہ باقی ہو تو اس کی زکوۃ اس شخص پر واجب ہو گی جس کا وہ روپیہ ہے نہ کہ باقی دار پر۔ البتہ ادائیگی اس وقت واجب ہوگی جب کہ قرض لینے والا قرض ادا کر دے ۔ اور اگر قرض ملنے سے پہلے ہی اس کی زکوۃ دے دی تو ادا ہوگئی. فقیہ اعظم حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں "اگر دین ایسے پر ہے جو اس کا اقرار کرتا ہے مگر ادا میں دیر کرتا ہے تو جب مال ملے گا سالہائے گذشتہ کی بھی زکوۃ واجب ہے ۔ ؎(بہارشریعت حصہ پنجم صفحہ 12) اور اعلی حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: جو روپیہ قرض میں پھیلا ہے اس کی بھی زکوۃ لازم ہے مگر جب بقدر نصاب یا خمس نصاب وصول ہوں. اس وقت ادا واجب ھوگی جتنے برس گزرے ہوں سب کا حساب لگا کر. (فتاویٰ رضویہ جلد 4 ص 432) اور تحریر فرماتے ہیں پانچ سو کہ قرض میں پھیلا ہے اگر فی الحال سب کی زکوۃ دے دے تو آئندہ کے بار بار محاسبہ سے نجات ہے (فتاوی رضویہ جلد 4 صفحہ 410) لہذا زید قرض ملنے سے پہلے ہی ہر سال اس مال کی زکوۃ نکالتا رہا تو ادا ہوگئی مگر زکات میں دی گئی رقم بکر سے پانے کا وہ حقدار نہیں اس لیے کہ اس مال کی زکوۃ زید ہی پر واجب تھی البتہ بکر وعدہ خلافی کرنے کے سبب گناہ گار ہوا اور زید ثواب کا مستحق ہوا. حدیث شریف میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ” من کان لہ علی رجل حق ومن اخرہ کان لہ بکل یوم صدقۃ” یعنی جس کا کسی شخص پر حق ہو اور وہ اسے مہلت دے تو اسے ہر دن کے عوض اتنا مال سکتا کرنے کا ثواب ملے گا (مسند امام احمد بن حنبل جلد پنجم صفحہ 613) واللہ تعالی اعلم الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی کتبہ : مفتی محمد ابرار احمد امجدی برکاتی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ