بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1724 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
طالب علم کا مدرسہ میں دینے کے لئے زکوۃ دی اس نے آدھا مدرسہ میں دیا آدھا خود رکھ لیا یہ جائز ہے یا نہیں؟
سوال : زید ایک مدرسہ کا طالب علم ہے جب وہ چھٹی میں گھر آیا تو اسے کچھ رقم زکوۃ کی ملی کہ اس کو اپنے مدرسے میں دے دینا زید جب مدرسہ گیا کچھ دن رہا پھر وہاں سے ہمیشہ کے لئے آنے لگا تو مجبوری کےتحت زکوۃ کا کچھ حصہ مدرسہ میں دے دیا اور کچھ نہیں دیا تو وہ زکوۃ کا روپیہ زید پر جائز ہے جو طالب علم ہے؟ جب وہ مدرسہ میں تھا زکوۃ کھایا کرتا تھا لیکن اب وہ اس مدرسے کا متعلم نہیں ہے اس کے اوپر زکوۃ جائز ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو اس مدرسہ میں دے یا اس کے مالک کو واپس کر دے؟بینوا و توجروا ۔ الجوابـــــــــــــــــــ جب زکوۃ دینے والے نے اس زکوۃ کی رقم مدرسہ میں دینے کے لیے کہا تھا تو اب اس طالبعلم اس کو اپنے اوپر خرچ نہیں کر سکتا ہے کہ اس بچی ہوئی رقم کو یا تو مدرسے میں دے دے یا اس کے مالک کے حوالے کردے. بہار شریعت میں ہے کہ وکیل کو یہ اختیار نہیں کہ خود لے لے ہاں اگر زکوۃ دینے والے نے یہ کہہ دیا ہو کہ جس جگہ چاہو صرف کرو تو لے سکتا ہے (صفحہ22 حصہ پنجم) در مختار میں ہے ” وللوکیل ان یدفع لولدہ الفقیر وزوجتہ لا لنفسہ الا اذا قال ربھا ضعھا حیث شئت (ج 2 صفحہ 269، کتاب الزکوۃ، مطلب فی الفرق بین السبب والشرط) واللہ تعالی اعلم الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور کتبہ : مفتی محمد احمد مصباحی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ