لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

میت کو قبر میں کس جانب سےاتارا جائے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

 میت کو قبر میں کس جانب سےاتارا جائے؟.. اتارتے وقت کیا پڑھیں؟ میت اگر عورت ہو تو اس کی تدفین میں کس چیز اہتمام کیاجانا چاہیے جو آجکل نہیں ہوتا؟

سوال مفتی صاحب ان سوالوں کا جواب عطا کریں اللہ آپ کو اجر عظیم عطا فرمائے آمین.. ١ میت کو قبر میں کس بھی جانب سے اُتار لیاجاتا ہے کیاایسا کرنا صحیح ہے؟ ٢ میت کو قبر میں اُتارتے وقت بلند آواز سے کلمہ طیبہ پڑھاجاتا ہے کیا یہی پڑھناچاہیے یا کچھ اور؟ ٣ میت اگر عورت ہوں تو اس کو قبر میں اتارتے وقت کس چیز کا اہتمام ہونا چاہیے؟ سائل : محمد نوید رضوی مچھلی بازار مالیگاؤں الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب ١) میت کو کسی بھی جانب سے قبر میں اتارنا جائز تو ہے مگر مستحسن وافضل یہ ہے کہ میت کو قبلہ کی جانب سے قبر میں اتارناچاہیے ایساہی فقہ کی کتابوں میں مذکور ہے۔ ٢) میت کو قبر میں اتارتے وقت کلمہ طیبہ پڑھنا جائز توہے. مگر وہ دعا پڑھنا زیادہ بہتر و مناسب ہے جس دعا کے پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے چناں چہ میت کو قبر میں اتارتے وقت یہ دعا پڑھنا چاہیے "بِسمِ اللہِ وٙبِاللّٰہِ وٙعٙلٰی مِلّٙةِ رٙسُولِ اللّٰہِ”۔ اور ایک روایت میں آیا ہے کہ بسم اللہ کے بعد "فِیْ سٙبِیْلِ اللّٰہِ”۔ بھی پڑھنا چاہیے۔ اب اگر بات ایسی ہوں کہ اکثر لوگوں کو یہ دعا یاد ہی نہیں ہے تو ایسی صورت میں یہ کرے کہ امام صاحب یا جس کو یہ دعا یاد ہے وہ زور سے پڑھے اور اس کو سن کر باقی لوگ بھی پڑھے۔ ٣ ) میت اگر عورت ہوں تو اس کو قبر میں اتارنے سے تختہ لگانے تک قبر کو کپڑے وغیرہ سے چھپائے رکھنا چاہیے. بہار شریعت جلد اول ، حصہ چہارم ، قبر ودفن کا بیان ، ص: 845- بحوالہ: تنویر الابصار، وردالمحتار، کتاب الصلوة، باب صلوة الجنازة ، مطلب فی دفن المیت ، جلد ثالث ، ١٦٦ ۔ عالمگیری جلد اول ، ص: ١٦٦۔ جوھرالنیرہ باب الجنائز ، ص: ١۴٠) وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم کتبـــــــہ : مفتی محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات