بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت – جامعہ قادریہ علیمیہ، نوی ممبئی | azharalimi95@gmail.com
لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

قرآن پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائی کہ اب غلط کام نہں کروں گا پھر کیا تو ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

قرآن پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائی کہ اب غلط کام نہں کروں گا پھر کیا تو ؟

سوال : کیافرماتے ہیں علمائے اہلسنت اس مسئلہ میں زید نے قسم کھائی قرآن پر ہاتھ رکھ کر اب غلط کام نہیں کروں گا زید نے غلط کیا زید پر کفارہ لازم آئے گا نہیں۔ سائل:-۔ محمد عابد رضا نظامی مہراجگنج ۔ الجواب بتوفیق الملک الوہاب  صورت مسئولہ میں زید نے قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر قرآن مجید کی قسم کھائی تو یہ شرعا قسم ہے توڑنے کی بنا پر کفارہ واجب ہوگا اس لیے کہ قرآن شریف کی قسم پہلے متعارف نہ تھی۔ جیسا کہ صاحب ھدایہ نے اس کی تعلیل میں فرمایا ” لانہ غیر متعارف ” لیکن اب اس کی قسم متعارف ہے اس لئے قرآن مجید کی قسم جمہور کے نزدیک شرعی قسم ہے اور اس پر شرعی قسم کے احکام مرتب ہونگے ۔ جیسا کہ اعلی حضرت امام احمد رضا خاں محدث بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان "فتاوی رضویہ” میں تحریر فرماتے ہیں کہ قرآن مجید کی قسم شرعا قسم ہے فی الدر المختار ” قال الکمال لا یخفی ان الحلف بالقرآن الآن متعارف فیکون یمینا انتھی، اسی میں ہے ” الایمان مبنیة علی العرف فما تعورف الحلف بہ فیمین ومالا فلا انتھے ۔ (فتاوی رضویہ قدیم ،ج،٥ ،ص،٣٣٣،باب الایمان ،طابع وناشر دارالعلوم امجدیہ مکتبہ رضویہ آرام باغ روڈ کراچی) اور بہار شریعت میں ہے قرآن کی قسم کلام اللہ کی قسم ان الفاظ سے بھی قسم ہو جاتی ہے۔ (بہار شریعت،ج،٢،ح،نہم،ص،٣٠١،قسم کا بیان،مجلس المدینۃ العلمیۃ دعوت اسلامی) ہاں اگر زید قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر کہتا ہے کہ ایسا نہیں کرونگا اور پھر کیا تو کفارہ نہیں نہ ہی یہ شرعا قسم ہے۔ جیسا کہ اعلی حضرت امام احمد رضا خاں محدث بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان "فتاوی رضویہ” میں تحریر فرماتے ہیں کہ کلام اللہ اللہ عزوجل کی صفت قدیمہ ہے صفات الہیہ عین ذات ہیں نہ غیر ذات کلام اللہ کی قسم ضرور حلف شرعی ہے ” لانہ من صفاتہ وقد تعورف الحلف بہ فکان کالحلف بعزتہ وعظمتہ وجلالہ لا کا لحلف برحمتہ وجودہ وکرمہ لعدم التعارف وھذا ھو منات الحلف الشرعی کما فی الدر المختار وغیرہ” ہاں مصحف شریف ہاتھ میں لیکر یا اس پر ہاتھ رکھ کر کوئی بات کہنی اگر لفظا حلف وقسم کے ساتھ نہ ہو حلف شرعی نہ ہوگا مثلا کہے کہ میں قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر کہتا ہوں کہ ایسا کام کرونگا اور پھر نہ کیا تو کفارہ نہ آئے گا۔ (فتاوی رضویہ قدیم ،ج،٥ ،ص،٣٦٠،باب الایمان ،طابع وناشر دارالعلوم امجدیہ مکتبہ رضویہ آرام باغ روڈ کراچی) واللہ تعالی ورسولہ اعلم بالصواب، کتبـــــــہ : مفتی منظور القادری خادم التدریس لدرجات العالیہ دارالعلوم معین الاسلام چھتونہ میگھولی کلاں مہراجگنج یوپی۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات