دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #1700
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
زکوۃ، صدقہ فطر اور چرم قربانی اپنی لڑکی یا تکیہ دار کو دینا کیسا ہے ؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
6,002
سوال (Question):
زکوۃ، صدقہ فطر اور چرم قربانی اپنی لڑکی یا تکیہ دار کو دینا کیسا ہے ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
زکوۃ، صدقہ فطر اور چرم قربانی اپنی لڑکی یا تکیہ دار کو دینا کیسا ہے ؟
الجوابــــــــــــــــــ اپنی لڑکی کو زکوۃ، صدقہ فطر اور دیگر صدقات واجبہ نہیں دے سکتا اگرچہ وہ غریب ہو. البتہ چرم قربانی دے سکتا ہے حضرت علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہ مصرف زکوۃ کے بیان درمختار کے قول ” ولا یصرف الی من بینھما ولاد” پر تحریر فرماتے ہیں ” ای بینہ وبین المدفوع الیہ لان منافع الاملاک بینھم متصلۃ فلا یتحقق التملیک علی الکمال ھدایۃ ای اصلہ وان علا کابویہ واجدادہ وجداتہ من قبلھما وفرعہ وان سفل کاولاد الاولاد وکذا کل صدقۃ واجبۃ کلفطر والنذور والکفارات واما التطوع فیجوز بل ھو اولی کما فی البدائع ١ھ. ملخصا. (رد المحتار جلد دوم صفحہ 69) اور تکیہ دار اگر غریب ہے تو اسے صدقہ فطر اور زکوۃ دے سکتا ہے بشرطیکہ اس کے کام کرنے کے عوض میں نہ ہو اور چرم قربانی تکیہ دار کو بہرصورت دے سکتا ہے مگر اس سے کام لینے کے بدلے میں دینا جائز نہیں. حضرت علامہ حصکفی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں ” مصرف الزکوۃ ھو فقیر الخ” تلخیصا ” ( در مختار مع رد المختار جلد دوم صفحہ 58) واللہ تعالی اعلم الجواب صحیح :مفتی جلال الدین احمد الامجدی کتبہ : مفتی اظہار احمد نظامی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat