بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1674 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
بغیر گواہوں کے نکاح کرلیا پھر طلاق دے دیا اب دوبارہ نکاح کے لئے کیا حکم ہے ؟
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ لڑکا اور لڑکی بغیر گواہ کے آپس میں نکاح کر لئے کچھ دن رہنے کے بعدلڑکے نے تین طلاق دے دیا دریافت طلب امر یہ ہے کہ پھر سے وہ دونوں نکاح کرنا چاہتے ہیں(اعلانیہ طریقہ سے) تو کیا نکاح کر سکتے ہیں کہ حلالہ کی ضرورت ہوگی ؟ مفصل بیان فرمائیں اور عنداللہ ماجور ہوں۔ سائل: شوکت علی دوگھرا بھیڑی ہاری پٹی کُشی نگر-یو پی وعليكم السلام ورحمةالله وبركاته بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم الجواب بعون الملک القدوس صحت نکاح کے لیے دو گواہوں کی موجودگی شرط ہے بغیر گواہوں کے نکاح منعقد نہ ہوگا لہذا لڑکا اور لڑکی کا بغیر گواہوں کے کیا ہوا نکاح منعقد ہی نہ ہوا اور جب نکاح نہ ہوا تو پھر طلاق کے کیا معنی.جتنے دن دونوں ایک دوسرے کے ساتھ رہے محض گناہ میں ملوث رہے اس لیے دونوں پر لازم ہے کہ فوراً فوراً جدا ہوجائیں اور اعلانیہ توبہ واستغفار کریں اور اگر دونوں ایک ساتھ رہنا چاہیں تو پھر سے نکاح صحیح شرعی کرلیں حلالہ کی ضرورت نہیں . ہدایہ میں ہے:النكاح ينعقد بالايجاب والقبول بلفظين بغير بهماعن الماضي بحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين (جلد٢،كتاب النكاح،ص٢٢٦) شہزادہ اعلی حضرت امام الفقہ مفتی اعظم ہند فرماتے ہیں مسلمہ کی نکاح میں آزاد عاقل بالغ سامع فاہم جو ایجاب و قبول نکاح کو سنیں اور سمجھیں ایسےدو گواہوں کا حضور شرط صحت نکاح ہےوہ نہ نکاح ہواکہ تنہامردوعورت نے ایجاب وقبول کیا (فتاویٰ مصطفویہ،کتاب النکاح ص٣٠٧) والله تعالى اعلم باصواب کتبہ:محمد سیف علی الفیضی ٦شعبان المعظم ١٤٤٣ھ
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ