بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1672 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
سر منڈانا یعنی بالکل گنجا کروانا جائز ہے یا نہیں؟
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ- کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ سر منڈانا یعنی بالکل گنجا کرواناجائز ہے یعنی گناہ تونہیں ہے.اور بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہُ عنہ بھی سرمنڈاتے تھے، کیا یہ بھی بات درست ہے؟ (سائل عبد العزیز قادری پاکستان) وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ و برکاتہ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِكِ الْوَھَّاب مرد کے لیے سرمنڈا جائز ہے اور حضرت علی المرتضٰی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے ثابت بھی ہے ۔ بہار شریعت میں ہے: کہ مرد کو سر منڈانا جائز ہے گناہ نہیں ہے، مرد کو اختیار ہے کہ سر کے بال منڈائے، یا بڑھائے اور مانگ نکالے. نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام سے دونوں چیزیں ثابت ہیں، اگرچہ منڈانا صرف احرام سے بار ہونے کے وقت ثابت ہے ۔ دیگر اوقات میں منڈانا ثابت نہیں ۔ جمع الوسائل فی شرح الشمائل للقاری باب ماجاء فی شعررسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ السلام صفحہ۹۹) اور بعض صحابہ سے منڈانا ثابت ہے..مثلاً حضرت مولیٰ علی رضی اللہُ تعالیٰ عنہ بطورِ عادت منڈایا کرتے تھے ۔ (بہار شریعت حصہ-١٦-صفحہ-٥۸٦) امام اہلسنت مجدد دین و ملت سید اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں ، کہ حضرت مولیٰ علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم ہمیشہ بال منڈ واتے اس وجہ سے کہ ہر بال کے نیچے جنابت ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ وہاں تک پانی نہ پہنچے، اور فرمایا کرتے یہی وجہ ہے کہ میں اپنے سرکے بالوں کا دشمن ہوں، اسی وجہ سے میں اپنے سرکے بال رکھنے کا مخالف ہوں. (فتاویٰ رضویہ جلد ۲۲صفحہ٦۹۰) واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ کتبــــــــــــــــــــــہ : ابورضا قاری محمد عمران عطاری مدنی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ