لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

شیشہ کے سامنے نماز پڑھنے سے نماز کا کیا شرعی حکم ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

شیشہ کے سامنے نماز پڑھنے سے نماز کا کیا شرعی حکم ہے ؟

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ شیشہ کے سامنے نماز پڑھنے سے نماز کا کیا شرعی حکم ہے ؟ (سائل محمد ناصر مدنی ملتان پاکستان) وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ و برکاتہ الجوابــــــــــــ بعون الملک الوھّاب شیشے کے سامنے نماز پڑھنے سے نماز ہو جائے گی ۔ کیونکہ شیشے میں نظر آنے والی تصویراصلاً تصویر کے حکم میں نہیں، بلکہ تصویر کا عکس ہے لہذا نماز پڑھنا جائز ہے ۔ لیکن اس طرح شیشے کے سامنے نماز پڑھنے سے نماز میں دھیان بٹتا ہے اور خشوع وخضوع کم ہی پیدا ہوتا ہے تو اس صورت میں بہتر یہ ہے کہ شیشے کے سامنے نماز نہ پڑھی جائے ۔ اگر کسی عذر کی وجہ سے شیشے کے سامنے پڑھنے کی حاجت ہو تو بہتر یہ ہے کہ شیشے کے اوپر کوئی کپڑا وغیرہ ڈال لیا جائے تاکہ نماز میں خشوع و خضوع پیدا ہو اور توجہ نہ بٹے” امام اہلسنت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں ، کہ مجھ سے سوال کیا گیا اس شخص کے بارے میں جس نے نماز پڑھی اس حال میں کہ اس کے سامنے شیشہ ہو تو میں نے جائز ہونے کا جواب دیا حکم جواز کو اس سے لیتے ہوئے جو یہاں ہے کیونکہ شیشے کی عبادت نہیں کی جاتی اور نہ شیشے میں ڈھالی گئی صورت تصویر ہوتی ہے اور نہ یہ کفار کی بنائی ہوئی چیز میں سے ہے , البتہ شیشہ اس طرح ہو کہ اس شیشے میں اس کی صورت اور اسکے افعال رکوع و سجود اور قیام و قعود اس کے لئے ظاہر ہوں اور وہ گمان کرے کہ یہ اسکو غافل کردے گا اور وہ غافل ہوجائے گا تو اس وقت اس کے لئے شیشے کے سامنے نماز پڑھنا ہرگز مناسب نہیں ہوگا” جدالممتار علی ردالمحتار جلد3 ص416 مکتبہ المدینہ کراچی (صدرالشریعہ بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمتہ الله علیہ تحریر فرماتے ہیں، کہ آئینہ سامنے ہو تو نماز میں کراہت نہیں کہ سبب کراہت تصویر ہے اور وہ یہاں موجود نہیں اور اگر اسے تصویر کا حکم دیں تو آئینہ کا رکھنا بھی مثلِ تصویر ناجائز ہوجائے حالانکہ بالاجماع جائز ہے” (فتاویٰ امجدیہ جلد1صفحہ 184مکتبۃ رضویہ کراچی) (مفتئ اعظم پاکستان مفتی وقارالدین قادری رضوی رحمہ اللہ تعالیٰ سے سوال کیاگیا کہ اگر محراب کے اندر شیشے جڑے ہوں اور محراب کی دیوار پر نمازیوں کی تصویر دکھائی دیتی ہو ،توکیا ایسی صورت میں نماز ہوجاتی ہے یانہیں ؟ آپ نے جواباََ تحریر فرمایا کہ محراب یاقبلہ کی جانب دیوار میں شیشے اتنی اونچائی پر لگائے جاسکتے ہیں کہ خاشعین (عاجزی کے ساتھ نماز پڑھنے والے) کی نظر رکوع سے اٹھتے اور سجدے میں جاتے وقت،ان پر نہ پڑے اوراگر نیچے لگادیئے ہیں تو یہ لگانا ناجائز ہے اور اس وجہ سے نماز میں کراہت ِ تنزیہی ہوتی ہے کہ ان پر نظر پڑنے کی وجہ سے خشوع میں فرق آئے گا، لیکن آئی نے میں آنے والے عکس کا حکم تصویر کا نہیں ہے” (وقارالفتاویٰ جلد2صفحہ73ناشر بزم وقار الدین) فتاویٰ مرکز تربیت افتا جلد1صفحہ229 پر بھی ایساہی تحریر ہے ۔ واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ کتبــــــــــــــــــــــہ  : ابورضا محمد عمران عطاری مدنی

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات