لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

آنکھ میں دوا ڈالنے اور سرمہ لگانے سے روزہ فاسد ہوگا کہ نہیں

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

آنکھ میں دوا ڈالنے اور سرمہ لگانے سے روزہ فاسد ہوگا کہ نہیں ؟

کیا فرماتے علمائے کرام کہ حالت صوم میں آنکھ میں دوا ڈالنے اور سرمہ لگانے سے روزہ فاسد ہوگا کہ نہیں ۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ جدید تحقیق کے مطابق آنکھ میں دوا ڈالنے سے روزہ روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ بینوا توجروا المستفتی : قطب عالم بچلے پوروا گونڈا بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــ آنکھ میں دوا ڈالنے اور سرمہ لگانے سے روزہ فاسد نہیں ہوگا اگر چہ دوا اور سرمہ کا اثر حلق کے اندر محسوس ہو، احکام شرعیہ کی بنیاد جدید تحقیق پر نہیں بلکہ اس کے اصول وضوابط پر ہے۔ محیط برہانی میں ہے : ” واما لو اکتحل او اقطر شیئا من الدوا فی عینه لا یفسد صومه عندنا وان وجد طعمه ذلك في حلقه” اھ (المحیط البرھانی : ج:2، ص: 556، کتاب الصوم، الفصل الرابع) فتاوٰی ہندیہ میں ہے : ” لو اقطر شيئا من الدواء في عينه لا يفطر صومه عندنا وان وجد طعمه في حلقه واذا بزق فریٰ الكحل ولونه في بزاقه عامة النشايخ على انه لا يفسد صومه كذا في الذخيرة وهو الاصح هكذا في التبيين ” اھ (الفتاوٰی الھندیۃ : ج: 1، ص: 224، کتاب الصوم، باب فیما یفسد الصوم و مالا یفسد) بحر الرائق شرح کنز الدقائق میں ہے : وکذا لو صب فی عینه لبن او دواء مع الدھن فوجد طعمه او مرارته فی حلقه لا یفسد صومه ھٰکذا فی الظھیریۃ و فی الولوالجیۃ” اھ (بحر الرائق شرح کنز الدقائق ج: 2، ص: 406، باب ما یفسد الصوم ومالا یفسد الصوم ) بہار شریعت میں ہے : ” تیل یا سرمہ لگایا تو روزہ نہ گیا اگر چہ تیل یا سرمہ کا مزہ حلق میں محسوس ہوتا ہو بلکہ تھوک میں سرمہ کا رنگ بھی دکھائی دیتا ہو جب بھی نہیں ٹوٹا” اھ (بہار شریعت : ج: 1، ح: 5، ص: 982)والله تعالٰی اعلم کتبـــــــــہ: عبدالقادر المصباحی الجامعی مقام : مہیپت گنج، ضلع : گونڈہ، یو پی، انڈیا ١٩،شعبان المعظم ١٤٤٣ھ

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات