بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1616 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
لفظ بیع و تملیک و ہبہ سے نکاح منعقد ہوجائے گا
السلام علیکم و رحمتہ اللہ برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے میں کہ لفظ بع اور تملیک اور ہبہ سے نکاح منعقد ہوگا یا نہیں مدلل جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی۔ سائل یار علی پچپڑوا ضلع بلرام پور یوپی انڈیا۔ وعلیکم السلام و رحمۃاللہ تعالیٰ وبرکاتہ الجواب-بعون الملک الوھاب لفظ بیع و تملیک و ہبہ سے نکاح منعقد ہوجائے گا جبکہ ان میں نکاح کا قرینہ موجود ہو فتاوی عالمگیری میں ہے: ” فينعقد بلفظ الهبة هكذا في الهداية… وينعقد بلفظ التمليك والصدقة و بلفظ البيع هو الصحيح هكذا في الهداية ” اھ ملخصاً (ج٢, ص٢٩٩, کتاب النکاح, الباب الثانی فیما ینعقد بہ النکاح وما لاینعقد بہ) یعنی نکاح لفظ ہبہ سے منعقد ہوجائے گا ایسا ہی ہدایہ میں ہے… اور لفظ تملیک ، صدقہ اور لفظ بیع سے ہوجائے گا ایسا ہی ہدایہ میں ہے۔ بہار شریعت میں ہے: ” الفاظ کنایہ میں ان لفظوں سے نکاح ہوسکتا ہے جن سے خود شی ملک میں آجاتی ہے مثلاً ہبہ, تملیک, صدقہ, عطیہ, بیع, شرا مگر ان میں قرینہ کی ضرورت ہے کہ گواہ اسے نکاح سمجھیں ” اھ ( حصہ ٧ ص٩ ج٢, نکاح کا بیان, الفاظ نکاح) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبہ گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔ ٢٢ شعبان المعظم ١٤٤٣ھ مطابق ٢٦ مارچ ٢٠٢٢ء
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ