بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1614 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
نماز میں درود ابراہیمی کے علاوہ کوئی دوسرا درود پڑھنے سے نماز ہوگی یا نہیں؟
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان شرع عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص نماز میں درود ابراہیمی کے علاوہ کوئی دوسرا درود پڑھ لے تو نماز ہوگی یا نہیں؟ المستفتی:- حافظ محمد اشرف نقشبندی خادم التدریس دار العلوم نعیمیہ نعیمی جامع مسجد عمر کالونی کونیاں پونچھ جموں وکشمیر . باسمه تعالى وتقدس الجواب بعون الهادى الى الحق والصواب نماز کے قعدہ اخیرہ میں تشہد کے بعد درود شریف پڑھنا سنت ہے اور بہتر درود اہراہیمی ہے لیکن اگرکوئی شخص مذکورہ درود شریف کے علاوہ کوئی دوسرا درود پڑھتا ہے تو اس سے بھی سنت ادا ہوجائے گی البتہ نماز بہر صورت درست ہوگی- تفسیرات احمدیہ میں ہے”نماز میں قعدہ اخیرہ میں تشہد کے بعد صلاة پڑھنا سنت ہے . (ص ۸۴۵ مترجم) بہار شریعت میں ہے” بعد تشہد دوسرے قعدہ میں درود شریف پڑھنا(سنت ہے)اور افضل وہ درود ہے،جو پہلے مذکور ہوا، یعنی درود ابراہیمی”(ج ۱ ح ۳ ص ۵۳۱/مکتبة المدينه دعوت اسلامی) فتاوی رضویہ میں ہے”سب درودوں سے افضل درود وہ ہے جو سب اعمال سے افضل یعنی نماز میں مقرر کیا گیا ہے”(ج ۳ ص ۶۲/ناشر:رضا اکیڈمی بمبئ) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم کتبہ:- محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ خادم دار العلوم نظامیہ نیروجال راجوری جموں وکشمیر ۱۵/شعبان المعظم ۱۴۴۳ھ مطابق ۱۹/مارچ ۲۰۲۲ء
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ