بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1613 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
کیا نابالغ حافظ قرآن تراویح اور فرض کی جماعت کرواسکتا ہے؟
تمام علمائے کرام اور مفتیان عظام سے سوال یوں ہے حافظ قرآن جو کہ نابالغ ھو تراویح اور فرض کی جماعت کروا سکتا ہے یا نہیں براہ کرم اس مسئلے کا جواب عنایت فرمائیں باسمه تعالى وتقدس الجواب بعون الملك الوهاب:- نابالغ خواہ حافظ قرآن ہو یا غیر حافظ مذہب صحیح کے مطابق بالغوں کی امامت کسی بھی نماز میں نہیں کرسکتا خواہ فرض نماز ہو یا تراویح وغیرہ کیونکہ بلوغ شرائط امامت میں سے ہے اور نابالغ میں یہ شرط مفقود ہے ہاں نابالغ اگر سمجھدار ہے تو وہ اپنے مثل نابالغوں کی امامت کر سکتا ہے ۔ اعلی حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان قدس سرہ العزیز اسی طرح کے ایک سوال کے جواب کے تحت تحریر فرماتے ہیں”اس لڑکے کے پیچھے تراویح وغیرہ کوئی نماز جائز نہیں کہ صحیح مذہب میں نابالغ بالغوں کی امامت کسی نماز میں نہیں کرسکتا”(ج۳ ص ۲۱۴/ناشر : رضا اکیڈمی بمبئ) بہار شریعت میں ہے” نابالغوں کے امام کے لیے بالغ ہونا شرط نہیں،بلکہ نابالغ بھی نابالغوں کی امامت کرسکتا ہے ۔ اگر سمجھ والا ہو”(ج ۲ ص ۵۶۱/مكتبة المدينه دعوت اسلامى) واللہ تعالی اعلم بالحق والصواب کتبہ:-محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ خادم دار العلوم نظامیہ نیروجال راجوری جموں وکشمیر ۱۵/شعبان المعظم ۱۴۴۳ھ مطابق ۱۹/مارچ ۲۰۲۲ء
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ