بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1611 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
کیا قاضی اپنی مرضی سے نکاحانہ رقم یعنی روپیہ پیسہ مانگ سکتا ہے ؟
حضرت ایک سوال یہ ہے کہ نکاح کا قاضی ( نکاح خواں ) نکاح پڑھاتا ہے تو عوام اس سے پوچھتی ہے کہ کتنا رقم لیں گے تو کیا قاضی اپنی مرضی سے رقم یعنی روپیہ پیسہ مانگ سکتا ہے ؟ المستفتی محمد ارشاد اکبر پور یوپی انڈیا۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب مانگ سکتا ہے کہ نکاح پڑھانے کی اجرت لینا اس کا حق ہے اور ہر حقدار اپنا حق مانگ کر لے سکتا ہے۔ فتاوی عالمگیری میں ہے: "وکل نکاح باشرہ القاضی… ومالم تجب مباشرتہ علیہ حل لہ أخذ الاجرة عليه ” اھ ملخصاً ( جلد 3 صفحہ 328 کتاب ادب القاضی ، باب فی اقوال القاضی وما ینبغی للقاضی ان یفعل ، مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان ) یعنی ہر وہ نکاح جسے قاضی خود پڑھائے. جب کہ اس پر اس نکاح کا پڑھانا واجب نہ ہو تو اسے اجرت لینا جائز ہے۔ فتاوی مرکز تربیت افتاء میں ہے: ” نکاح خواں کو نکاح خوانی کے عوض مقررہ روپیہ لینا اور اس کے لئے روپیہ متعین کرنا جائز ہے اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ کے فتاوی رضویہ (قدیم) کے جلد پنجم صفحہ 171 کے ایک فتوی سے یہی مستفاد ہے ” اھ ( جلد اول کتاب النکاح صفحہ 525/526 ) کتبہ گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی ۔ صدر میرانی دار الافتاء و شیخ الحدیث جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔ 16 شعبان المعظم 1443ھ
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ