بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1610 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
خریدے ہوئے مکان کا کرایہ نہیں دینا ہے
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب قبلہ میرا ایک سوال ہے کہ میں نے ایک مکان کرائے پر لے رکھا ہے مالک مکان اسے بیچ رہا تھا تو میں نے اسے خرید لیا ہے کچھ. مگر ابھی پچاس ہزار روپیہ ہی دیا ہے باقی ڈیڑھ سال میں دینے کا وعدہ کیا ہے اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ جب تک میں مکان مالک کو پورا پیسہ نہ دیدوں کیا مجھے کرایہ دینا پڑے گا یانہیں جواب عنایت فرماکر عنداللہ ماجور ہوں۔ المستفتی صدام حسین بہار بسم ﷲ الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب وعليكم السلام و رحمۃاللہ وبرکاتہ۔ صورت مستفسرہ میں اگر مبیع وثمن دونوں معین ہیں اور بائع نے مکان مبیعہ پر مکمل قبضہ دے دیا ہے تو بیع تام و صحیح ہے اور خریدار اس مکان کا مالک ہے اداء ثمن کی مہلت کا قرار داد نہ تو مفسد بیع ہے اور نہ ہی مفسد ملک کہ یہ اجل معین ہے اور اجل معین کے ساتھ بیع صحیح ہے اس لیے خریدار مذکورہ مکان کا مالک ہے کرایہ دار نہیں. حاصل یہ کہ خریدار کو خریدے ہوئے مکان کا کرایہ نہیں دینا ہے کہ وہ اس مکان کا مالک ہو چکا ہے البتہ وقت مقررہ کے اندر بقیہ قیمت کی ادائیگی لازم ہے درمختار میں ہے”وشرط لصحتہ معرفۃ قدر مبیع وثمن” اھ(ج٧ص٤٦،کتاب البیوع) بحرالرائق میں ہے”لایصح البیع الا بمعرفۃ قدر المبیع والثمن ووصف الثمن اذا کان کل منھما غیر مشارالیہ”اھ(ج٥ص٤٥٦،کتاب البیع) اسی میں ہے "وصح بثمن حال وبأجل معلوم ای البیع لاطلاق النصوص”اھ(ج٥ص ٤٦٦،کتاب البیع) در مختار میں ہے”وصح بثمن حال وھو الأصل ومؤجل الی معلوم لئلایفضی الی النزاع "اھ(ج٧ص٤٩،کتاب البیوع) امام احمدرضا خان قدس سرہ العزیز بیع میں وعدۂ ادائے ثمن بقیہ کے متعلق سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں "بیع تام و صحیح ہے اور بقیہ ثمن ذمہ مشتری واجب کہ یہ اجل معین ہے اور بیع اجل معین کے ساتھ صحیح ہے اس کے لیے عبارت بحر الرائق کافی ہے کہ صح بثمن حال وبأجل معلوم عرفاً ولغۃ ہر طرح سال کے اندر اور ایک سال تک کا حاصل ایک ہے جس سے اجل کی تحدید ایک سال سے ہوتی ہے اور سال شئ معین ہے آغاز وعدہ سے اختتام سال تک مشتری کو اختیار ادا ہونا عین مقصود تاجیل ہے”اھ ملخصاً(ج٧ ص٧١، کتاب البیوع،باب التصرف فی المبیع والثمن) اسی میں ہے” اگر اس نے بعض یا کل ثمن لینے سے پہلے مبیع اس کے قبضے میں دے دی تو اس سے جو کچھ منافع حاصل ہوں ملک مشتری ہیں مشتری کے لیے حلال ہیں”اھ(ج٧ ص٤،کتاب البیوع) اسی میں ہے”کرایہ کہ الٹا مالکان مکان سے غیر مالکوں نے لیا سب حیلہ باطلہ اورنرا سود ہے انجمن پر فرض ہے کہ جتنا کرایہ اس وقت تک وصول کیا ہو مالکوں کو واپس دے”اھ(ج ٧ص٤،کتاب البیوع،باب الایجاب والقبول) وﷲ تعالیٰ اعلم بالصواب. کتبہ:محمد ارشد حسین الفیضی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ