بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1600 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
اشراق کی نمازکی کیا فضیلت ہے اوراس کا وقت کیا ہے ؟
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ” کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اشراق کی نمازکی کیا فضیلت ہے اور یہ کب پڑھنی ہوتی ہے؟ سائل: عبد الواجد کشمیر سے وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ و برکاتہ الجواب بعون الملک الوھّاب سرکاردوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نےارشاد فرمایا جو نَمازِ فجر با جماعت ادا کرکے ذکرُاللہ کرتا رہے یہاں تک کہ آفتاب بُلند ہوگیا پھر دو رکعتیں پڑھے تو اسے پورے حج و عمرہ کاثواب ملے گا.. (سُنَنُ التِّرْمِذِیّ،ج۲،ص۱۰۰حدیث۵۸۶) (جو شخص نماز فجر سے فارغ ہونے کے بعد اپنے مُصلّے میں/یعنی جہاں نماز پڑھی وہیں/ بیٹھا رہا حتّٰی کہ اشراق کے نفل پڑھ لے صرف خیر ہی بولے تو اُس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے اگر چِہ سمندر کے جھاگ سے بھی زیادہ ہوں.. ( سُنَنُ اَ بِی دَاوٗد ج۲ص۴۱حدیث ۱۲۸ ) حدیث مبارکہ کے اس حصے اپنے مصلے پر بیٹھا رہے کی وضاحت میں حضرت سیِّدنا مُلا علی قاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں: یعنی مسجد یا گھر میں اس حال میں رہے کہ ذِکر یا غورو فکرکرنے یا علم دین سیکھنے سکھانے یا ’’ بیتُ اللہ کے طواف میں مشغول رہے,نیز صرف خیر ہی بولے اس کے بارے میں فرماتے ہیں: یعنی فجر اور اشراق کے درمیان خیر یعنی بھلائی کے سوا کوئی گفتگو نہ کرے کیونکہ یہ وہ بات ہے جس پر ثواب مُرتَّب ہوتا ہے: ( مرقاۃج۳ ص۳۹۶ تحت الحدیث۱۳۱۷) قانون شریعت میں ہے یہ نمازبھی سنت ہےفجرپڑھ کردوردشریف وغیرہ پڑھتارہےجب سورج ذرا,اونچاہوجائے(یعنی)نکلنےکےبعد کم ازکم 20منٹ گزرجائیں تودورکعت پڑھے: ( قانون شریعت صفحہ ٢٢۷,مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ کتبہ :ابورضاقاری محمد عمران عطاری مدنی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ