بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1594 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
عورت اپنے بیٹے سمیت اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر بیعت ہوسکتی ہے یانہیں ؟
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ : کیافرماتےہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک عورت اپنی بیٹے سمیت اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر کسی پیر صاحب سے بیعت ہوسکتی ہے یانہیں ؟ سائل :عبدالرشیدسلطانی ضلع خوشاب وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالٰی وبرکاتہ الجـــــوابــــــــــــ بعون الملک الوھّاب مذکورہ صورت میں اس عورت کا اپنی اولاد سمیت خاوند کی اجازت کے بغیر بیعت کرنا جائز تو ہے لیکن بہتر یہ ہوگا کہ اپنے خاوند کی اجازت و مشورے سے کسی صحیح العقیدہ جامع الشرائط پیر صاحب سے بیعت کریں تاکہ گھر میں کسی قسم کی نا اتفاقی پیدانہ ہو ۔ فتاویٰ فقیہ ملت میں ہے :کہ زید کی بیوی اور اس کے لڑ کے کا زید کی اجازت کے بغیر بیعت ہوناجائزہے بشرطیکہ پیرصاحب کے اندر شرعی اعتبار سے کوئ خرابی نہ ہو . (فتاویٰ فقیہ ملت جلد2صفحہ431) امام اہلسنت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں، کہ عَالِم عامل عارف کامل کے ہاتھ پر شرف بیعت حاصل کرنے اور اس سے علم دین و راہ سلوک سیکھنے کے لیے شوہر کی اجازت درکرار نہیں، نہ اس بات میں اسکی ممانعت کا لحاظ لازم جبکہ اس کے حقوق میں کسی خلل کا اندیشہ نہ ہو: (فی کتاب الجھاد من البحر والنھر والد وغیرھا انما یاز مھا امرہ فیما یر جع الی النکاح وتوابعہ ۔ (فتاویٰ رضویہ،قدیم جلد9صفحہ102) واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ کتبــــــــــــــــــــــہ :ابورضا محمد عمران عطاری مدنی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ