دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #1575
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
پیشاب کا قطرہ عضو کے سرے پر ظاہر ہونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
12,061
سوال (Question):
پیشاب کا قطرہ عضو کے سرے پر ظاہر ہونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
پیشاب کا قطرہ عضو کے سرے پر ظاہر ہونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے
السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ سوال: مسئلہ یہ معلوم کرنا ہے کہ کچھ عرصہ قبل میں نے پیشاب کی رکاوٹ کی وجہ سے آپریشن کروائی تھی اب مسئلہ یہ ہوا ہے پیشاب کرنے کے دس منٹ بعد ایک قطرہ آتا ہے استبرا کرنے کے باوجود اتنا ہوتا ہے ، پیشاب والی جگہ کے منہ پر ہوتا ہے، دبانے یا شرمگاہ کو کپڑے کے اوپر دیکھنے سے باہر آجاتا ہے تو اس قطرے سے نواقض وضو کب ہوگا ؟ یعنی شرمگاہ کے منہ میں آنے سے یا جب باہر قطرہ نکل آئے پھر؟ سائل: ایاز علی حسینی الجواب: جب تک عضو کے سوراخ کے اندر ہے وضو نہ جائے گا، ہاں! جب دبانے سے یا بغیر دبائے منہ پر ظاہر ہوگا تو وضو ٹوٹ جائے گا اور عضو کے سرے پر اس کا ظہور اسی وقت ہوگا جب قطرہ سوراخ سے باہر آجائے۔ہاں! آگر کوئی ایسا آدمی ہو جس کا ختنہ نہ ہوا ہو تو اگر کھال کے اس حصہ میں قطرہ پہونچ گیا جس کو ختنہ میں کاٹا جاتا ہے تو اگرچہ باہر ظاہر نہ ہوا ہو وضو ٹوٹ جائے گا۔فتاوی عالم گیری میں ہے: “وَلَوْ نَزَلَ الْبَوْلُ إلَى قَصَبَةِ الذَّكَرِ لَمْ يَنْقُضْ الْوُضُوءَ وَلَوْ خَرَجَ إلَى الْقُلْفَةَ نَقَضَ الْوُضُوءَ، كَذَا فِي الذَّخِيرَةِ وَهُوَ الصَّحِيحُ. هَكَذَا فِي الْبَحْرِ الرَّائِقِ.” (فتاوی عالم گیری، کتاب الطہارة، الفصل الخامس فی نواقض الوضوء) امام المدققین علامہ علاو الدین حصکفی لکھتے ہیں: “(كَمَا) يَنْقُضُ (لَوْ حَشَا إحْلِيلَهُ بِقُطْنَةٍ وَابْتَلَّ الطَّرْفُ الظَّاهِرُ) هَذَا لَوْ الْقُطْنَةُ عَالِيَةٌ أَوْ مُحَاذِيَةٌ لِرَأْسِ الْإِحْلِيلِ وَإِنْ مُتَسَفِّلَةً عَنْهُ لَا يُنْقَضُ۔” (در مختار، کتاب الصلاة) نیز تحریر فرماتے ہیں: “ثُمَّ الْمُرَادُ بِالْخُرُوجِ مِنْ السَّبِيلَيْنِ مُجَرَّدُ الظُّهُورِ وَفِي غَيْرِهِمَا عَيْنُ السَّيَلَانِ وَلَوْ بِالْقُوَّةِ، لِمَا قَالُوا: لَوْ مَسَحَ الدَّمَ كُلَّمَا خَرَجَ وَلَوْ تَرَكَهُ لَسَالَ نَقَضَ وَإِلَّا لَا، كَمَا لَوْ سَالَ فِي بَاطِنِ عَيْنٍ أَوْ جُرْحٍ أَوْ ذَكَرٍ وَلَمْ يَخْرُجْ۔” (ایضا) بہار شریعت میں ہے: “اگر مرد کا خَتنہ نہیں ہوا ہے اور سوراخ سے ان چیزوں میں سے کوئی چیز نکلی مگر ابھی ختنہ کی کھال کے اندر ہی ہے جب بھی وُضو ٹوٹ گیا۔” (بہار شریعت ح ٢ ص٣٠٦) اسی میں ہے: “مرد نے سوراخِ ذَکَر میں رُوئی رکھی اور وہ اُوپر سے خشک ہے مگر جب ،تو تَر نکلی تو نکالتے ہی وُضو گیا۔” (بہار شریعت ح ٢ ص٣٠٧ ) مذکورہ بالا جزئیات و فروع دے واضح ہے کہ پیشاب کا قطرہ جب سوراخِ ذکر کے سرے پر ظاہر ہو اس وقت وضو ٹوٹے گا۔ ہاں ! غیر مختون کے قلفہ تک پہونچنے سے ہی ٹوٹ جائے گا۔ واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ۴/رمضان المبارک ١۴۴٣ھ// ٦/اپریل ٢٠٢٢ء
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat