بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1573 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
عارضی مسجد کا سامان دوسری مسجد میں وقف کرنا کیسا ہے
کیا فرماتے ہین علماء دین مسلہ ذیل مین کہ کسی جگہ کچُہ لوگون نے ایک شخص کے زمين مین مسجد عارضی قایم کی بعد مین اس شخص نے مسجد کو زمین دینے سے انکار کردیا جس کی وجہ سے اس مسجد کو بند کردیاگیا تو کیا اس کےسامان اگر وہ لوگ دوسری جگہ وقف کردین تو کیا ایسا کرنا جایز ہے یا ناجایز قران وحدیث کے روشنی مین جواب عنایت فرمائیں ۔ الجواب بعون الملک الوھاب جس شخص کی زمین پر مسجد قائم کی گئی تھی اگر اس نے مسجد بنانے کے لیے زمین وقف کی تھی مثلا کہہ دیا تھا کہ میں نے اس زمین کو مسجد کردیا یا اس میں ہمیشہ کے لیے مسلمانوں کو نماز پڑھنے کی اجازت دے دی تھی تو اب اس کا زمین دینے سے انکار کرنا لغو ہے،وہ جگہ مسجد ہوگئی اور بدستور مسجد ہی رہے گی،اس کا سامان دوسری مسجد میں منتقل کرنا جائز نہیں. در مختار مع ردالمحتار میں ہے : ولایجوز نقلُه ونقل ماله إلی مسجد آخر، وهو الفتوی، حاوي القدسي. وأکثر المشائخ علیه، مجتبی، وهو الأوجه”. (الدر المختار مع رد المحتار: ۶/۴۲۹، کتاب الوقف) فتاوی فقیہ ملت میں ہے : مسجد کا سامان مدرسہ یا کسی اور جگہ لگانا جائز نہیں، یہاں تک کہ ایک مسجد کا سامان دوسری مسجد میں نہیں لگا سکتے”۔ ایسا ہی فتاوی رضویہ جلد ششم صفحہ ٤٣٨میں ہے۔ (فتاوی فقیہ ملت٢/ ١٤٤،باب فی المسجد،شبیر برادرز، لاہور) لیکن اگر شخص مذکور نے زمین کو مسجد کے لیے وقف نہیں کیا تھا تو وہ جگہ شرعا مسجد نہیں، لہٰذا اس کے سامان کو دوسری مسجد میں سامان دینے والوں کی اجازت سے دیدینا جائز ہے.کیوں کہ جب مسجد وقف نہیں تو پھر اس مسجد پر کسی چیز کا وقف بھی صحیح نہیں ہے اس لیے وہ سب سامان دینے والوں کی ملکیت پر باقی ہیں اور ان کو دوسری کسی مسجد میں دینے کا ان کو اختیار ہے۔ واللہ اعلم بالصواب کتبہ: کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی ٤ رمضان المبارک ١٤٤٣/ ٦ اپریل ٢٠٢٢ الجواب صحیح : محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ