لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

کیا حاملہ عورت کو روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

کیا حاملہ عورت کو روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے؟

بخدمت اقدس حضور مفتی صاحب قبلہ السلام عليكم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا حاملہ عورت کو رمضان المبارک کے روزے نہ رکھنے کی اجازت ہے مفصل جواب عنایت فرمائیں کرم ہوگا۔ المستفتی فریاد خان نظامی خطیب وامام انوار رضا مسجد بڑی دمن (یوٹی) الجواب بہت ساری حاملہ عورتیں بفضلہ تعالی روزہ رکھتی ہیں اور ان کو کوئی ضرر نہیں ہوتا، لیکن اگر کسی حاملہ عورت کو یہ ظن غالب ہو کہ روزہ رکھنے سے اس کی جان یا اس کے پیٹ میں موجود بچّے کی جان کو خطرہ ہے تو اس کو روزہ رمضان نہ رکھ کر دوسرے دنوں میں قضا کی اجازت ہے۔اور اگر یہ خوف نہ ہو تو اس کو رمضان شریف کا روزہ ترک کرنے کی اجازت نہیں۔ فتاوی عالم گیری میں ہے: "الْحَامِلُ وَالْمُرْضِعُ إذَا خَافَتَا عَلَى أَنْفُسِهِمَا أَوْ، وَلَدِهِمَا أَفْطَرَتَا وَقَضَتَا، وَلَا كَفَّارَةَ عَلَيْهِمَا كَذَا فِي الْخُلَاصَةِ. (فتاوی عالم گیری، کتاب الصوم ج١ ص ٢٠٧) صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: "حمل والی اور دودھ پلانے والی کو اگر اپنی جان یا بچہ کا صحیح اندیشہ ہے، تو اجازت ہے کہ اس وقت روزہ نہ رکھے، خواہ دودھ پلانے والی بچہ کی ماں ہو یا دائی اگرچہ رمضان میں دودھ پلانے کی نوکری کی ہو۔” (بہار شریعت ح ۵ ص ١٠٠٩) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ٣/رمضان المبارک ١۴۴٣ھ// ۵/اپریل ٢٠٢٢ء

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات