بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1550 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
کیا عرس کے لیے چندہ کرنا جائز ہے؟
السلام علیکم و رحمۃ اللہ کیا پسے مانگ کر کسی بزرگ کا عرس کروانا جائز ہے؟ سائل : محمد جاوید رضا. الجواب عرس میں مذہبی تقریری پروگرام اور زائرین کی ضیافت وغیرہ جائز و مستحب امور کے لیے چندہ کرنا جائز ہے، ہاں! مزامیر کے ساتھ قوالی یا دیگر مروجہ غیر شرعی امور کے لیے چندہ کرنا ناجاٙئز ہے اور مانگنے اور دینے والے دونوں گنہگار ہوں گے۔ارشادِ باری تعالی ہے: وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ۔ (سورہ مائدہ : آیت ٢) اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: "جوچندہ دیاجائے فاتحہ ونیاز شہدائے کرام میں صرف کیاجائے جبکہ چندہ دہندوں کی اجازت ہو کہ یہ( یعنی: چندہ دہندوں کی اجازت) ضروری چیز ہے۔” (فتاوی رضویہ جدید ٢۴/ ١۴۴) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ٧/رمضان المبارک ١۴۴٣ھ// ٩/اپریل ٢٠٢٢ء
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ