دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #1525
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
نل سے آئے ہوئے بد بو دار پانی سے وضو کرنا
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
7,573
سوال (Question):
نل سے آئے ہوئے بد بو دار پانی سے وضو کرنا
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
نل سے آئے ہوئے بد بو دار پانی سے وضو کرنا
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ھذا میں ۔ اگر نل سے گندا پانی آئے اور غفلت میں اسے ٹاکی میں بھر دیا جائے جس میں بو بھی ہو اور رنگ بھی بدلا ہوا ہو مگر ٹاکی میں موجود پانی کی وجہ سے رنگ کی تبدیلی کا اثر نمایا نہ ہو تو کیا ایسے پانی سے وضو غسل جائز ہے یا نہیں؟ اور کیا ایسا پانی ناپاک ہوگا جو گندا ہو اس حد تک اور بو بھی لاتا ہو اور اس بارے میں اکثر لوگ کہتے ہوں یہ گٹر کا پانی ہے ۔ ہماری مسجد میں اکثر غفلت کی بنیاد پر ایسا کردیا جاتا ہے اور ٹاکی ایسی جگہ اور ایسے طریقہ پر بنائی گئی ہے کی اسے کھول کر دھونا بہت مشکل ہوتا ہے تو ایسی حالت میں نماز کا کیا حکم ہے؟ جلد از جلد جواب عنایت فرمائیں۔ مہربانی ہوگی کیونکہ لوگ اب بھی اسی پانی سے وضو کر رہے ہیں۔ المستفتی: محمد یاسین رضوی ۔ الجوابـــــــــــــــــــ جب تک یہ تحقیق نہ ہو کہ اس پانی کی بدبو نجاست ہی کی وجہ سے ہے اس پانی کو نجس نہیں کہہ سکتے اور اس سے وضو غسل منع نہ ہوگا۔ اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: “طول مکث سے بدبو لانا پانی کو نجس نہیں کرسکتا اگرچہ کٹورا بھر ہو ، تنویر و غیرہ متون میں ہے: ینجس بتغیر احد اوصافہ بنجس لا لوتغیر بمکث۔ در مختار میں ہے: فلوعلم نتنہ بنجاسۃ لم یجز ولو شک فالاصل الطھارۃ۔” (فتاوی رضویہ ج٢ ص٢٦) نیز تحریر فرماتے ہیں: “حوض کے پانی میں بدبو آتی ہو اس سے وضو جائز ہے جب تک نجاست معلوم نہ ہو۔” (حاشیہ فتاوی رضویہ ج اول ص۴١۵) ہاں! اگر یقین یا ظن غالب ہو کہ پانی کی یہ بدبو نجاست کے اثر کی وجہ سے ہی ہے تو اس سے وضو غسل جائز نہ ہوگا۔ حاصل یہ ہے کہ یہاں تین صورتیں ہیں: (١) یہ یقین یا ظن غالب ہے کہ اس پانی کی بدبو کسی نجاست کی وجہ سے نہیں، بلکہ کسی پاک چیز کی وجہ سے ہے۔ اس صورت میں پانی پاک ہے۔اور اس سے وضو وغیرہ صحیح ہے۔ (٢) یہ یقین یا ظن غالب ہے کہ اس پانی کی بدبو نجاست کے اثر سے ہے۔ اس صورت میں پانی ناپاک ہے اور اس سے وضو غسل وغیرہ درست نہیں۔ (٣) اس بارے میں شک ہے کہ اس پانی کی بدبو کسی نجس چیز کے اثر سے ہے یا غیر نجس چیز کے اثر سے ہے۔ اس صورت میں بھی پانی پاک ہے۔ اور اگر کوئی اس سے وضو غسل کرے تو اعتراض بیجا ہے اور اگر کوئی بچے تو بہتر۔ واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ٢١/رمضان المبارک ١۴۴٣ھ// ٢٣/اپریل ٢٠٢٢ء
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat