لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

عیدگاہ میں نماز جنازہ پڑھ سکتے ہیں مسجد میں نہیں

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

عیدگاہ میں نماز جنازہ پڑھ سکتے ہیں مسجد میں نہیں

مفتی محمد صدام حسین برکاتی میرانی فیضی۔ حضرت عید گاہ اور مسجد میں نماز جنازہ پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟ سائل عاشق علی نیپالی بڑھنی کے پاس۔ الجواب-بعون الملک الوھاب مسجد میں نہیں پڑھ سکتے کہ بلاضرورت شرعیہ مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا مکروہ تحریمی ہے۔ تنویرالابصار میں ہے : ” کرھت تحریما فی مسجد جماعۃ ھی فیہ واختلف فی الخارجۃ والمختارالکراھۃ ” اھ ( تنویر الابصار وجامع البحار, ص٦١, کتاب الصلاۃ , مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان) یعنی مسجد جماعت میں نماز جنازہ مکروہ تحریمی ہے جبکہ جنازہ مسجد کے اندر ہو، اور اگر باہر ہے تواس بارے میں اختلاف ہے، مختار یہ ہے کہ مکروہ ہے۔ حضور اعلی حضرت رضی ﷲ تعالیٰ عنہ تحریر فرماتے ہیں: "جنازہ مسجد میں رکھ کر اس پر نماز مذہب حنفی میں مکروہ تحریمی ہے”۔ اھ ( فتاوی رضویہ مترجم, ج٩, ص٢٦٤, باب الجنائز, مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) ہاں عیدگاہ میں پڑھ سکتے ہیں۔ فتاوی فیض الرسول میں ہے: ” نماز جنازہ عیدگاہ کے احاطہ میں بھی پڑھی جاسکتی ہے جیسا کہ سید العلماء حضرت سید احمد طحطاوی رحمۃ اللّٰہ علیہ تحریر فرماتے ہیں: لاتکرہ فی مسجد اعد لھا وکذا فی مدرسۃ ومصلی عید ” اھ۔ (ج١, ص١٢٢, باب الجنائز ) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبہ گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔ ١٠ رمضان المبارک ١٤٤٣ھ مطابق ١٢ اپریل ٢٠٢٢ء

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات