لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

جس پر چوری کا الزام ہو اس کی امامت کا حکم

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

جس پر چوری کا الزام ہو اس کی امامت کا حکم

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید ایک مسجد میں امامت و خطابت کرتا ہے، اور مسجد اور مدرسے میں چوری بھی کرتا ہے، اس کا علم تمام مقتدیوں کو ہوچکا ہے، اب حضور مفتی صاحب کی بارگاہ میں عرض ہے کہ ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے، اور اس کو امام بنانا کیسا ہے؟ جو نماز اس کی اقتدا میں ادا کی گئی اس کا کیا حکم ہے؟ قرآن و حدیث سے جواب عنایت فرما کر عنداللہ ماجور ہوں ۔ المستفتی ذکر اللہ صدیقی مقیم حال جھارکھنڈ الجوابــــــــــــــــــــ اگر واقعی زید پر چوری کا جرم ثابت ہے، یعنی اس کو خود چوری کرنے کا اقرار ہو۔ یا دو پرہیزگار مسلمان عاقل بالغ مرد اس کی چوری کی چشم دید گواہی دیں تو ایسے شخص کو ہرگز امام نہ رکھا جائے۔ اور اگر محض چوری کا وہم یا شبہہ ہو تو محض وہم یا شبہہ کی بنا پر چوری کا الزام لگانا اور اس وجہ سے امامت سے برطرف کرنا درست نہ ہوگا۔صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: "چوری کے ثبوت کے دوطریقے ہیں: ایک یہ کہ چور خود اقرار کرے اور اس میں چند بار کی حاجت نہیں، صرف ایک بار کافی ہے۔ دوسرا یہ کہ دو مرد گواہی دیں اور اگر ایک مرد اور دو عورتوں نے گواہی دی تو قطع نہیں، مگر مال کا تاوان دلایا جائے اور گواہوں نے یہ گواہی دی کہ ہمارے سامنے اقرار کیا ہے تو یہ گواہی قابل اعتبار نہیں گواہ کا آزاد ہونا شرط نہیں۔” (بہار شریعت ح٩ص۴١٨) اور امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز قرائن سے شبہہ کی بنا پر چوری کے الزام کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں: "خالی شُبہ کے سبب بکر پر چوری ثابت نہیں ہوسکتی نہ اس کے پیچھے نماز منع نہ ہو۔” (فتاوی رضویہ ج٣ ص٢٦١) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ٢/شوال المکرم ١۴۴٣ھ// ۴/مئی ٢٠٢٢ء

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات