بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1505 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
ایسی دعا جس سے باری تعالی کی طرف بھول کی نسبت لازم آئے ناجائز ہے
السلام علیکم! کوئی امام صاحب دعا میں کہتے ہیں: ” اے خدا ! ہم تجھے بھول گیے تو نہ ہمیں بھول جا” باقی ان کی نیت کا ہمیں کوئی پتہ نہیں۔ ان پر کیا حکم ہوگا؟ الجوابــــــــــــــــــــــــ اللہ تعالی نسیان اور بھول سے پاک ہے، نسیان اور بھول اللہ تعالی کے لیے محال ہے، کیوں کہ نسیان اور بھول نقص ہے اور نقص باری تعالی کے لیے محال ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے: "لا یضل ربی ولا ینسی” (سورہ طہ آیت نمبر ۵٢) علامہ فضل رسول بدایونی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: "یستحیل الکذب و کذا سائر سمات النقص علیہ تعالی” (المعتقد المنتقد ص٦١) نیز تحریر فرماتے ہیں: "قال ابن ابی الشریف فی شرحہ: بل یستحیل علیہ کل صفة لا کمال فیہا ولا نقص؛ لان کلا من صفات اللہ صفة کمال۔ وفیہ ایضا: لا خلاف بین الاشعریة وغیرھم فی ان کل ما کان وصف نقص فی حق العباد فالباری تعالی عنہ منزہ، وھو محال علیہ تعالی” (المعتقد المنتقد ص٦٢) اور محال کی دعا حرام ہے۔ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: "محالات عادیہ و محالات شرعیہ کی دُعا حرام ہے۔” (بہار شریعت ح٣ص۵٣٩) اب چوں کہ دعا ایسی ہی چیز کی ہونی چاہیے جو ممکن ہو لہذا باری تعالی سے بھول نہ جانے کی طلب و دعا اس بات کو مستلزم ہے کہ ایسی دعا کرنے والا باری تعالی کے لیے بھول کو ممکن مانتا ہے۔ لہذا ایسی دعا ناجائز اور ایسی دعا سے احتراز لازم ہے۔ پھر اس طرح کی دعا اگر اس عقیدہ کے ساتھ ہو کہ باری تعالی سے نسیان اور بھول کا صدور ہوتا ہے تو یہ کفر ہے۔ صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: "کوئی شخص بیمار نہیں ہوتا ، یا بہت بوڑھا ہے مرتا نہیں ، اس کے لیے یہ کہنا کہ اسے اللہ میاں بھول گئے ہیں۔ یا کسی زبان دراز آدمی سے یہ کہنا کہ خدا تمھاری زبان کا مقابلہ کرہی نہیں سکتا، میں کس طرح کروں یہ کفر ہے۔” (بہار شریعت ح٩ ص۴٦۴) امام فخر الدین رازی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: "انَّ فِعْلَ الشَّيْءِ إذا كانَ مُمْتَنِعًا لَمْ يَجُزْ طَلَبُ الِامْتِناعِ مِنهُ عَلى سَبِيلِ الدُّعاءِ والتَّضَرُّعِ، ويَصِيرُ ذَلِكَ جارِيًا مَجْرى مَن يَقُولُ في دُعائِهِ وتَضَرُّعِهِ: رَبَّنا لا تَجْمَعْ بَيْنَ الضِّدَّيْنِ ولا تَقْلِبِ القَدِيمَ مُحْدَثًا۔” (التفسیر الکبیر، سورہ بقرہ، آیت: "۔۔۔ولا تحملنا مالا طاقة لنا۔۔۔”) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ٢۵/رمضان المبارک ١۴۴٣ھ// ٢٧/اپریل ٢٠٢٢ء
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ