دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #1499
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
اللہ و رسول کے حاضر و ناظر ہونے کی وضاحت
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
10,487
سوال (Question):
اللہ و رسول کے حاضر و ناظر ہونے کی وضاحت
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
اللہ و رسول کے حاضر و ناظر ہونے کی وضاحت
کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیانِ شرع متین مسائلِ ذیل میں : 1. خداے جل شانہ ہر جگہ موجود ہے، یا کوئی جگہ اس سے خالی ہے، اگر خالی ہے تو وہ کون سی جگہ ہے؟ 2. زید کہتا ہے کہ (الف)حضور ﷺ حاضر و ناظر ہیں خدا جل شانہ حاضر و ناظر نہیں (ب) دوم یہ کہ خدا جل شانہ کو حاضر و ناظر کہنا کفر ہے، بیوی نکاح سے نکل جاتی ہے، پس زید کے اس قول سے تمام حکام اور چپراسی جو کہ مدعی و مدعا علیہ اورگواہان سے حلف لیتے ہیں ان الفاظ کے ساتھ کہ خدا کو حاضر و ناظر جان کر سچ کہیں گے، اس کے کہنے اور کہلانے سے بقول زید سب کا فر اور بیویاں نکاح سے باہر ٹھہریں یا نہیں ۔ زید کا قول کہاں تک صحیح ہے؟ از روے شرع شریف جواب مدلل تحریر فرمائیں ۔ بینواو توجروا۔ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1. اللہ عز و جل مکان و زمان سے پاک ہے ، کوئی جگہ، کوئی مکان، کوئی وقت، کوئی زمان اس کا احاطہ کر سکے، محال ہے۔ عقائد نسفی میں ہے: لا یتمکن فی مکان ولا یجری علیہ زمان) اللہ عز و جل نہ کسی مکان میں مکین ہے نہ زمان کا اس پر مرور ۔ یعنی خدا وند قدوس کا کسی جگہ مخلوق کی طرح موجود ہونا محال ہے۔ 2. حضور اقدسﷺ اللہ عز و جل کے محبوب بندے اور پیاری مخلوق ہیں ۔ ان کے لیے مکان و زمان ثابت ہے، بے شک وہ حاضر و ناظر ہیں اور بلا شبہہ خدا وند کریم مکان و زمان سے پاک ہے ۔ اس کو اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان فرماتے ہیں ؎ وہی لا مکاں کے مکیں ہوئے سرِ عرش تخت نشیں ہوئے وہ نبی ہے جس کے ہیں یہ مکاں ، وہ خدا ہے جس کا مکاں نہیں اللہ عز وجل سمیع و بصیر، علیم و خبیر ہے۔ ہر جگہ ہر مکان میں ہر شے کوہر وقت برابر دیکھتا ، سنتا، جانتا ہے، ہر شے کو اس کا علم محیط ہے، حلف لیتے وقت جو یہ کہتے ہیں کہ خدا کو حاضر و ناظر جان کر کہیں گے ، اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہمارے فعل کو خدا وند کریم دیکھتا ہے، ہمارے قول کو سنتا ہے۔ یہ معنی صحیح ہیں مگر بجاے حاضر و ناظر کے شہید و بصیر کہنا چاہیے۔) ( وھو تعالیٰ اعلم۔ کتبہ: عبد العزیز عفی عنہ ماخوذ از فتاوٰی حافظ ملت
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat