بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1497 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
نکاح کے نذرانہ کا حق دار کون
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ بعدی عرض ہے کہ دارالعلوم میں چار مدرس ہیں اس میں ایک امام خاص اور ایک نائب امام ہیں گاؤں میں کوئی بھی نکاح خوانی ہوتی تھی تو اس کا نذرانہ چاروں اسٹاف میں تقسیم ہوتا تھا، لیکن اب جو امام آئے ہیں وہ نکاح خوانی کا نذرانہ کسی کو نہیں دینا چاہتے ہیں، ضد پر اڑے ہیں کہ میرا سب ہے، صورت مسئلہ میں کس کس کو دیا جائے گا اور شریعت کا کیا حکم ہے ۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں تحریر فرمائیں۔ عین نوازش ہوگی۔ فقط السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ سائل : مولانا ریاض احمد رضوی صاحب مدرس دارالعلوم ھذا الجوابـــــــــــــــــــ صورتِ مسئولہ میں نکاح کا نذرانہ دینے والا جو کہہ کر دے اسی کی بات کا اعتبار ہوگا۔ اب اگر وہ نذرانہ خاص نکاح پڑھانے والے کو دیتا ہے تو دوسرے مدرسین کا اس میں حق نہیں ہے، اب اگر وہ نکاح پڑھانے والا خود اپنی خوشی سے دیگر مدرسین کو بھی دیدے تو ایسا کرسکتا ہے۔ ہاں! اگر یہ معہود اور مشہور ہو کہ یہاں نکاح میں جو نذرانہ دیا جاتا ہے وہ سب مدرسین میں برابر برابر تقسیم ہوتا ہے اور نکاح کا نذرانہ دینے والے کو اس عادتِ معروفہ کا علم بھی ہو تو ایسی صورت میں اس نذرانے میں مدرسہ کے تمام مدرسین برابر کے حق دار ہوں گے، لیکن اس صورت میں بھی اگر نذرانہ دینے والے نے نکاح پڑھانے والے سے صراحةً کہہ دیا کہ نذرانہ صرف آپ کا ہے تو اگرچہ وہاں پہلے سے برابر برابر تقسیم کی عادتِ معروفہ جاری ہو تنہا نکاح پڑھانے والا ہی اس نذرانہ کا مالک ہوگا، دیگر مدرسین کا اس میں حصہ نہ ہوگا۔ وذلک لان القاعدة المعلومة التی تفرع علیہا کثیر من الجزئیات والفروع الفقہیة ان المعہود عرفا کالمشروط، وقد نص الفقہاء العظام فی غیر موضع ان الصراحة تفوق الدلالة۔ واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ٧/شوال المکرم١۴۴٣ھ// ٩/مئی ٢٠٢٢ء
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ