لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

علماے دین کی توہین کا حکم از علامہ کمال احمد علیمی نظامی

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

علماے دین کی توہین کا حکم

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎حضر ت طبیعت کیسی ہے بعد عرض خد مت یہ کی اگر کوی۶ شخص یہ کہے کی ہم رنڈی کی ناچ کر وا۶ںین گے اور اگر مو لا نا لوگ بولیں گےتو داڑھی میں پیشا ب کردیں گے تواس کے یھاں کھا نا اورمیلاد پڑ ھنا کیساہے قران وحدیث کے مطابق ارشاد فرما۶یں طالب محمد علی قادری الجواب بعون الملک الوھاب. زید نے تین سنگین جرم کاارتکاب کیا ہے(١) علمائے دین کی توہین کی ہے اور علمائے دین کی توہین کفر ہے۔ (٢) داڑھی کی توہین کی ہے۔داڑھی سنت رسول علیہ السلام اور شعائر اسلام میں سے ہے، علماے کرام اور فقہاے عظام نے ایک مشت داڑھی رکھنا واجب قرار دیا ہے، لہٰذا شخص مذکور داڑھی کے استخفاف اور سنت رسول کی توہین کی نیت سے اگر مذکورہ قول کیا ہے تو وہ ایمان سے خارج ہے، اس پر توبہ تجدید ایمان، شادی شدہ ہے تو تجدید نکاح لازم ہے، اگر نہ کرے تو اس کے گھر کھانا، میلاد پڑھنا ناجائز ہے. فتاوی عالمگیری میں ہے : إن کان تہاوٴنا بالسنة یکفر۔ (فتاوی عالمگیری: ٢/ ٢٦٥) فتاوی رضویہ میں ہے : یہ (داڑھی) سنَن سے ہے اور اس کی سنیت قطعی الثبوت ، ایسی سنت کی تو ہین و تحقیر اور اس کے اِتباع پر اِستہزا(ہنسی مذاق) بالاجماع کُفر۔ عورت اس کے نکاح سے نِکل جائے گی اور بعد اس کے جو بچّے ہوں گے اولادِ حرام ہوں گے،اہلِ اسلام کو اس سے معاملۂ کفّار برتنا لازِم ، بعدِمرگ اس کے جنازہ کی نماز نہ پڑھیں اور مَقابرِ مسلمین(یعنی مسلمانوں کے قبرستان)میں دَفن نہ کریں بلکہ جہاں تک ممکن ہو اس جنازۂ ناپاک کی تذلیل کریں کہ اس نے ایسے عزّت والے نبی صلی اللہ علیہ وسلّم کی سُنَّت کو ذلیل سمجھا ۔ اَلْعِیَاذُ بِاللّٰہ ۔ (فتاویٰ رضویہ ،۲۲/۵۷۴) ہاں اگر اس نے لڑائی جھگڑے میں مذکورہ قول کیا ہے تو ایسا کہنا حرام ہے،اس صورت میں بھی اس پر توبہ و استغفار ہے، تجدید ایمان وغیرہ کی ضرورت نہیں. فتاوی شارح بخاری میں : فتاویٰ شارح بخاری میں ہے : داڑھی کی توہین اس نیت سے کرنا کہ یہ رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے اسلام کے شعار میں سے ہے تو کفر ہے. لیکن لڑائی جھگڑنے میں پکڑ لینا، نوچ لینا یا داڑھی کو لیکر کوئی سخت کلمہ کہنا کفر نہیں حرام ضرور ہے (ج ٢ ص ٣٥٩ ط :دائرة البرکات) (٣)اسی طرح سے اس کا قول کہ ہم رنڈی کا ناچ کروائیں گے یہ بھی نہایت شنیع اور علی الاعلان گناہ پر سخت جرات و جسارت ہے۔زید نے جس طرح زید نے علی الاعلان یہ سب بکواس کیا ہے اسی طرح علی الاعلان توبہ کرے اور احتیاطا تجدید ایمان و نکاح بھی کرے۔ واللہ اعلم بالصواب کتبہ : کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی ٦شوال ١٤٤٣/ ٨ مئی ٢٠٢٢ الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات