دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #1487
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
طلاق والی عورت عدت میں کہاں رہے گی؟ از مفتی محمد رضا مرکزی
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
12,715
سوال (Question):
طلاق والی عورت عدت میں کہاں رہے گی؟ از مفتی محمد رضا مرکزی
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
طلاق والی عورت عدت میں کہاں رہے گی؟
مطلقہ یعنی طلاق والی عورت عدت کہاں گزارے گی؟ سائل: نور شاہ. عبد الخالق نگر مالیگاؤں الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب طلاق کے بعد عورت اپنی عدت ایسی جگہ گزارے گی جہاں اسے مکمل طور پر تحفظ ہو، کسی قسم کی کوئی پریشانی نہ ہو۔ یہ عورت پر منحصر ہے کہ وہ کہاں عدت گزارنا چاہتی ہے۔ مطلقہ یا بیوہ عورت کو عدت کے دوران بلاعذر شرعی گھر سے باہر نہیں نکلنا چاہئے۔ کسی وجہ سے شوہر کے گھر عدت گزارنا مشکل ہو تو عورت اپنے میکے یا کسی دوسرے گھر میں بھی عدت گزار سکتی ہے۔ بہتر ہے مطلقہ شوہر کے اسی گھر میں عدت گزارے جہاں طلاق کے وقت اس کی رہائش تھی تاکہ رجوع کی کوئی سبیل بن سکتی ہو تو اس کا احتمال رہے۔ کسی شدید ضرورت یا پریشانی کے بغیر شوہر کے گھر کو نہ چھوڑے۔ رجوع نا ہونے کی صورت میں عدت مکمل ہونے پر عورت اس نکاح سے آزاد ہو جاتی ہے اور وہ دونوں ایک دوسرے کے لیے اجنبی اور غیرمحرم ہو جاتے ہیں، تب شوہر کا گھر چھوڑنا لازم ہو جاتا ہے۔ وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat