بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1481 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
عقیقہ کے گوشت سے شادی کا ولیمہ کرنا کیسا ہے ؟
سوال:کیا عقیقہ کے گوشت سے شادی کا ولیمہ کیا جاسکتا ہے؟ اس بارے میں وضاحت فرمائیں۔ سائل : محمد اقبال نوری کمال پورہ مالیگاؤں الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب عوام میں کچھ بتائیں اتنی مشہور ہو چکی ہیں کہ سب اسی کو صحیح و درست مناتے ہیں علماء سے پوچھنا شرم محسوس کرتے ہیں.. انھیں میں سے عقیقہ کے گوشت سے شادی کا ولیمہ کرنے والا معاملہ بھی ہے. عقیقے کا گوشت دعوتِ ولیمہ میں شریک ہونے والوں کو کھلانا شرعاً درست ہے ۔ لہٰذا اگر کسی نے ایسا کیا ہے تو اس نے کچھ برا نہیں کیا۔ قربانی ہو یا عقیقہ دونوں کے گوشت کے لیے جذبہ تو یہ ہونا چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ غریبوں میں تقسیم کرے۔ لیکن اگر شادی بیاہ کے لیے ضرورت ہو تو سارے کا سارا استعمال بھی کیا جا سکتا ہے۔ وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم کتبــــــــۃ : مفتی محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ