بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1472 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
ایک سال سے کم صحت مند بکرے کی قربانی دینا
السلام وعلیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ سوال : ایک بکرا جس کی عمر ۱۰ ماہ ہے مگر دیکھنے میں ایک سال کا معلوم ہوتا ہے تو کیا اس کی قربانی ہوسکتی ہے؟ سائل محمد سعید نوری نندوربار الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ بکرا اسلامی مہینوں کے مطابق پورے ایک سال کا ہونا لازمی ہے۔ سال سے کم ہو تو قربانی کے قابل نہیں ہے۔ دنبہ یا بھیڑ کا بچہ صحت مند، موٹا تازہ ہو تو چھ ماہ میں بھی اس کی قربانی دی جا سکتی ہے۔ فقہائے کرام فرماتے ہیں: اونٹ پانچ سال کا، گائے، بھینس دو سال کی، بکری بکرا، بھیڑ ایک سال کی۔ یہ عمر کم از کم حد ہے۔ اس سے کم عمر کے جانور کی قربانی جائز نہیں۔ زیادہ عمر ہو تو بہتر ہے۔ ہاں دنبہ یا بھیڑ کا چھ ماہ کا بچہ اگر اتنا موٹا تازہ ہو کہ دیکھنے میں سال بھر کا نظر آئے تو اس کی قربانی بھی جائز ہے۔ علامه علاء الدين محمد بن علی بن محمد حصکفی، الدر المختار، 6 : 322، طبع کراچی. علامه ابو الحسن علی بن ابی بکر مرغينانی، الهداية، 4 : 449، طبع کراچی. الشيخ نظام الدين وجماعة من علماء الهند، الفتاوی الهندية، 1 : 374، دارالفکر. وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم کتبـــــہ : مفتی محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ