دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #1470
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
وارثین میں دوبیویاں تین بیٹیاں اور دو بیٹے ہوں تو ترکہ کیسے تقسیم ہوگا؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
13,774
سوال (Question):
وارثین میں دوبیویاں تین بیٹیاں اور دو بیٹے ہوں تو ترکہ کیسے تقسیم ہوگا؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
وارثین میں دوبیویاں تین بیٹیاں اور دو بیٹے ہوں تو ترکہ کیسے تقسیم ہوگا؟
میرا عریضہ یہ ہے کہ زید کا انتقال ہوگیا ہے اس کے وارثین میں اس کی دو بیویاں ہیں ان میں سے ایک بیوی سے ایک لڑکی ہے اور دوسری بیوی سے دو لڑکیاں اور دو لڑکے ہیں اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ ان میں سے زید کے ترکہ میں سے کس کو کتنا ملے گا جواب عنایت فرمائیں اور عنداللہ ماجور ہوں۔ الجواب بعون الملک الوھاب صورت مستفسرہ میں بعد تقدیم ماتقدم وعدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین کل ترکہ کو سولہ حصوں میں تقسیم کریں گے اور اس میں سے ایک ایک حصہ دونوں بیویوں کو دیں گے اور دو دو حصے تینوں بیٹیوں کو دیں گے اور چار چار حصے دونوں بیٹوں کو دیں گے۔ کہ فرمان باری تعالی ہے:” یُوۡصِیۡکُمُ اللّٰہُ فِیۡۤ اَوۡلَادِکُمۡ ٭ لِلذَّکَرِ مِثۡلُ حَظِّ الۡاُنۡثَیَیۡنِ ” اھ (سورۃ النساء آیت ١١) ترجمہ: “اللہ تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے میں بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے ” (کنزالایمان) نیز ارشاد فرمایا: “فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ ٱلثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم ” اھ (سورۃ النساء آیت ١٢) یعنی اگر تمہارے اولاد ہو تو تمہارے ترکہ میں سے تمہاری بیویوں کا آٹھواں حصہ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبہ: گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی میرانی فیضی۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat