بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1463 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
بانجھ جانور کی قربانی کا حکم
سوال : مفتی صاحب! کیا بانجھ ہونا قربانی کے لئے عیب ہے؟ کیا بانجھ جانور کی قربانی کرنا درست ہے؟ سائل : حافظ رفیق القادری برکاتی مالیگاؤں الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب جانور کا بانجھ ہونا قربانی کے لئے عیب نہیں ہے، اس لئے بانجھ جانور کی قربانی کرنا جائز ہے، بلکہ بسا اوقات بانجھ جانور خوب موٹا تازہ ہوتا ہے، اور اس کا گوشت بھی عمدہ ہوتا ہے، اس لئے اس کی قربانی کرنا جائز ہے۔ کذا فی الھندیۃ: تجوز الأضحیۃ بالعاجزۃ عن الولادۃ لکبر سنہا ۔ (297/5، الباب الخامس) وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتاء الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ