لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

قربانی کا گوشت کتنے دن تک رکھ کر کھا سکتے ہیں

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

قربانی کا گوشت کتنے دن تک رکھ کر کھا سکتے ہیں۔

مفتی محمد صدام حسین برکاتی میرانی فیضی۔ کیافرماتےہیں علمائےدین اس مسئلہ کےبارےمیں کہ قربانی کا گوشت کتنے دن تک رکھ کر کھا سکتے ہیں ؟ سائل عبید اللہ رضوی پورنیہ بہار۔ الجواب بعون الملک الوھاب قربانی کا گوشت جب تک چاہیں رکھ سکتے ہیں ، شرعی اعتبار سے منع نہیں ہے، ہاں اتنے دنوں تک نہ رکھے کہ خراب اور صحت کے لئے مضر ہوجائے۔ فتاوی ھندیۃ میں ہے: ” ولو حبس الكل لنفسه جاز وله ان يدخر الكل لنفسه فوق ثلاثة ايام الا ان اطعامها والتصدق بها افضل الا ان يكون الرجل ذا عيال وغير موسع الحال فان الافضل له حينئذ ان يدعه لعياله ويوسع عليهم به كذا في البدائع ” اھ (ج٥, ص٣٧١, کتاب الاضحیۃ, باب محل اقامۃ الواجب, مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان) صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ تحریر فرماتےہیں: ” قربانی کا گوشت تین دن سے زائد اپنے اور گھر والوں کے کھانے کے لئے رکھ لینا بھی جائز ہے، اور بعض حدیثوں میں جو اس کی ممانعت آئی ہے وہ منسوخ ہے اگر اس شخص کے اہل و عیال بہت ہوں اور صاحب وسعت نہیں ہے تو بہتر یہ ہے کہ سارا گوشت اپنے بال بچوں ہی کے لیے رکھ چھوڑے” اھ (بہار شریعت, ح١٥, ص٣٤٥, قربانی کے جانوروں کابیان, مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی) واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ ۔ کتبہ: گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی میرانی فیضی۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا ۔ ١٦ ذی القعدہ ١٤٤٣ھ مطابق ١٧ جون ٢٠٢٢ء

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات