بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1445 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
دولوگ مل کر جانور ذبح کریں تو دونوں پر تسمیہ پڑھنا واجب ہے
مفتی محمد صدام حسین برکاتی میرانی فیضی۔ دو لوگ مل کر جانور ذبح کریں قصاب اور جس کے نام سے قربانی ہے تو ایسی صورت میں دونوں کو بسم ﷲ اللہ اکبر پڑھنا ضروری ہے یا صرف ایک کاپڑھنا کافی ہے اور یہ بھی بتائیے کہ اگر ایک شخص نہ پڑھے عمدا یاسہوا تو شریعت کا کیا حکم ہے جواب عنایت فرماکر عند اللہ ماجور ہوں۔ المستفتی: عبد اللہ قادری میرانی ممبئی انڈیا۔ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ الجواب بعون الملک الوھاب صورت مسؤلہ میں دونوں پر تسمیہ پڑھنا واجب ہے کسی نے بھی عمدا ترک کیا تو ذبیحہ حلال نہ ہوگا ہاں بھول کر چھوڑدیا تو حرج نہیں۔ فتاوی ھندیۃ میں ہے: "رَجُلٌ أَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ فَوَضَعَ صَاحِبُ الشَّاةِ يَدَهُ عَلَى السِّكِّينِ مَعَ يَدِ الْقَصَّابِ حَتَّى تَعَاوَنَا عَلَى الذَّبْحِ قَالَ الشَّيْخُ الْإِمَامُ: يَجِبُ عَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا التَّسْمِيَةُ حَتَّى لَوْ تَرَكَ أَحَدُهُمَا التَّسْمِيَةَ لَا يَجُوزُ” اھ (ج٥, ص٣٧٥, کتاب الاضحیۃ, الباب السابع فی التضحیۃ عن الغیر) یعنی بکری کے مالک نے اس کو ذبح کرنے کے ارادہ سے اپنا ہاتھ چھری پر رکھا قصاب کے ہاتھ کے ساتھ یہاں تک کہ دونوں نے ایک دوسرے کی مدد کی ذبح کرنے میں تو شیخ نے فرمایا ان دونوں کو تسمیہ پڑھنا واجب ہے یہاں تک کہ اگر کوئی ترک کردے تو جانور حلال نہ ہوگا۔ حضور اعلی حضرت رضی ﷲ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں: "معین ذابح سے یہی مراد ہے کہ ذابح کا ہاتھ کمزور ہو، ذبح میں دقت دیکھے تو دوسرا اس کے ساتھ چھری پر ہاتھ رکھ کر دونوں مل کر ہاتھ پھیریں، اس صورت میں دونوں پر تکبیر واجب ہے۔ اگر ان میں سے کوئی بھی قصدا تکبیرنہ کہے گا، ذبیحہ مردار ہوجائے اگر چہ دوسرا تکبیر کہے ” اھ (فتاوی رضویہ مترجم, ج٢٠, ص٢١٨, مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں: "اگر بسم اللہ کہنا بھول گیا تو ذبح ہوگیا۔ جانور حلال ہے۔ اھ(فتاویٰ امجدیہ ج:۳، ص: ۳۰۱) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب ۔ کتبہ گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی میرانی فیضی۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا ۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ