دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #1439
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
کیا کافر سر پڑوسی کو قربانی کا گوشت کے دے سکتے ہیں ؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
9,869
سوال (Question):
کیا کافر سر پڑوسی کو قربانی کا گوشت کے دے سکتے ہیں ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
پڑوسی کا حق کیا ہے؟ کیا کافر سر پڑوسی کو قربانی کا گوشت کے دے سکتے ہیں ؟
مسلہ: پڑوسی کا حق کیا ہے ؟ کیاکافر پڑوسی کو قربانی کا گوشت دے سکتے ہیں یا نہیں ؟ المستفتی: یار محمد جموتی ڈیہ ایس نگر یوپی بسم اللہ الرحمن الرحیم الجوابــــــــــــــــ پڑوسی کی تین قسمیں ہیں( ١ ) مسلم رشتہ دار (٢) مسلم (٣) کافر – ان میں سے ہر ایک کے حقوق مختلف ہیں ۔ اگرپڑوسی مسلم رشتہ دار ہو تو اسے حق جوار حق اسلام اور حق قرابت حاصل ہے ۔ اور اگر پڑوسی مسلم ہو رشتہ دار نہ ہو تو اس کو حق جوار اور حق اسلام حاصل ہے اور اگر پڑوسی کافر ہو تو اس کو صرف حق جوار حاصل ہے ۔ حدیث شریف میں ہے ” قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم : الاجیرا ثلاثۃ فمنھم من لہ ثلاثت حقوق و منہم من لہ حقان و منہم من لہ حق ۔ فاما الذی لہ ثلاثت حقوق فا لجار المسلم القریب لہ حق الجوار و حق الاسلام و حق القرابۃ ۔ واما الذی حقان فالجار المسلم لہ حق الجوار و حق الاسلام ۔ واما الذی لہ حق واحد فالجار الکافر لہ حق الجوار قلنا ! یا رسول اللہ! فنطعمھم من نسکنا ؟ فقال : لا تطعمواالمشرکین شیاء من النسک ترجمہ: حضور نے فرمایا کہ پڑوسی تین قسم کے ہیں ۔ بعض کے تین حق ہیں ۔ بعض کے دو اور بعض کے ایک ۔ جو پڑوسی مسلم ہو اور رشتہ والا ہو تو اس کے تین حق ہیں۔ حق جوار، حق اسلام اور حق قرابت۔ پڑوسی مسلم کے دو حق ہیں ۔ حق جوار ،حق اسلام ،اور پڑوسی کافر کا ایک حق ہے،حق جوار ۔ ہم نے عرض کی یارسول اللہ اللہ ان کو اپنی قربانیوں کا گوشت دیں فرمایا مشرکین کو قربانیوں میں سے کچھ نہ دو ( کنزالعمال ج ٥ص٤٥ ،باب حقوق تعلق بصحبۃ الجار) لہذاکافر کو قربانی کا گوشت دینا جائز نہیں خواہ وہ پڑوسی ہو یا نہ ہو – اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں “یہاں کے کافروں کو گوشت دینا جائز نہیں وہ خاص مسلمانوں کا حق ہے “والطیبت للطیبین والطیبون للطیبلت ” اھ ( ج ٨ ص ٤٦٧ ) ایسا ہی فتاوی امجدیہ ج ٣ ص٣١٨ میں بھی ھے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم الجواب صحیح : محمد نظام الدین رضوی برکاتی کتبہ : زبیر احمد مصباحی ہیں ٢٤ ذی الحجہ ١٤٢٩ ھ
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat