دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #1415
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
عید غدیر کی مبارک باد دینا کیسا ہے؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
13,155
سوال (Question):
عید غدیر کی مبارک باد دینا کیسا ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
عید غدیر کی مبارک باد دینا کیسا ہے؟
مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی حضور آج کے دن لوگ عید غدیر کی مبارک باد دیتے ہیں اس کا شرعاً کیا حکم ہے؟ المستفتی محمد آفاق رضا نان پارہ بہرائچ یوپی انڈیا۔ الجواب-بعون الملک الوھاب عید غدیر روافض کی عید ہے اہل سنت کی نہیں اور روافض زمانہ اپنے عقائد کفریہ کی بنا پر کافر و مرتد ہیں اور کفار و مرتدین کے کسی بھی مذہبی تہوار میں شرکت کسی طور پر جائز نہیں حضور اکرم صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ ” (سنن ابي داؤد، كِتَاب اللِّبَاسُ، بَابٌ فِي لُبْسِ الشُّهْرَةِ رقم الحدیث ٤٠٣١) یعنی جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ انہیں میں سے ہے۔ اور ارشاد فرمایا: “من کثر سواد قوم فھو منھم” اھ (اتحاف السادۃ المتقین، ج١٢، ص٢٤، کتاب التوحید والتوکل، مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان) یعنی جس نے کسی قوم کی تعداد بڑھائی وہ انہیں میں سے ہے۔ اعلی حضرت امام احمد رضا رضی ﷲ تعالیٰ عنہ تحریر فرماتے ہیں:”مشرکین کے تہوار کی خوشی منانا ان کے ایسے افعال ملعونہ میں شرکت کرنا معصیت قطعیہ ہے۔” اھ (فتاوی رضویہ جدید، ج٢١، ص١٦٦، کتاب الحظر والاباحۃ، رضا فاؤنڈیشن لاہور) لہٰذا صورت مستفسرہ میں عید غدیر جو رافضیوں کاتہوار ہے کی مبارک باد دینا جائز نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب ۔ کتبہ :محمد صدام حسین برکاتی فیضی اشرفی میرانی۔ صدر شعبہ افتاء وشیخ الحدیث میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat