صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #1413 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

اپنی بیوی سے کہا”میں نے تجھے جواب دیدیا” توطلاق ہوئی یانہیں؟

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: September 18, 2025
0 12,943

سوال (Question):

اپنی بیوی سے کہا"میں نے تجھے جواب دیدیا" توطلاق ہوئی یانہیں؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

اپنی بیوی سے کہا”میں نے تجھے جواب دیدیا” توطلاق ہوئی یانہیں؟

مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ زید نے اپنی بیوی کو کہا کہ جاؤ تم اپنے میکے چلی جاؤ میں نے تجھے جواب دےدیا ایسا اس نے ایک دو مرتبہ کہا تو کیا طلاق واقع ہوگی یا نہیں اگر ہوگی تو کون سی طلاق واقع ہوگی قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی۔ المستفتی محمد عاقب رضا فیضی نعیمی بسم ﷲ الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب جواب دینا اگر وہاں کے محاورہ میں طلاق کے الفاظ صریحہ سے سمجھا جاتا ہے کہ جب عورت کی نسبت اس کو بولا جاتا ہے طلاق ہی مفہوم ہوتی ہے تو زید کی عورت اگر اس کی مدخولہ ہے اور الفاظ مذکورہ کا دوبار کہنا ثابت ہو تو زید کی بیوی پر دو طلاق واقع ہوگئیں جبکہ اس سے قبل کوئی طلاق نہ دیا ہو۔ ایسا ہی فتاوی فیض الرسول، ج٢، ص١٥٤، کتاب الطلاق میں ہے۔ ردالمحتار میں ہے: “الصریح ماغلب فی العرف استعمالہ فی الطلاق بحیث لایستعمل عرفا الافیہ من ای لغۃ کانت” اھ (ج٤، ص٤٦٤، کتاب الطلاق، باب الصریح، دار عالم الکتب الریاض) بہار شریعت میں ہے: “صریح وہ جس سے طلاق مراد ہونا ظاہر ہو اکثر طلاق میں اس کا استعمال ہو اگرچہ وہ کسی زبان کالفظ” اھ (حصہ ٨، ص١٥، طلاق کابیان، مکتبۃ المدینہ کراچی) اعلی حضرت امام احمد رضا رضی ﷲ تعالیٰ عنہ تحریر فرماتے ہیں: “اگر فار غ خطی دینا وہاں کے محاورہ میں طلاق کے الفاظ صریحہ سے سمجھا جاتا ہے جیسا کہ یہاں کی بعض اقوام میں ہے کہ عورت کی نسبت اس کے کہنے سے طلاق ہی مفہوم ہوتی ہے تو دو طلاقیں رجعی ہوئیں” اھ (فتاوی رضویہ جدید، ج١٢، ص٥٦٩، کتاب الطلاق، باب الکنایۃ، رضا فاؤنڈیشن لاہور) واللہ تعالیٰ ورسولہ صلی ﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم اعلم بالصواب۔ کتبہ; گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat