لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

حاجت اصلیہ سے کیا مراد ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

حاجت اصلیہ سے کیا مراد ہے ؟

مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ حضرت حاجت اصلیہ سے کیا مراد ہے آسان لفظوں میں وضاحت فرمادیں بڑی مہربانی ہوگی فقط والسلام سائل: نور محمد قادری خادم الطلبہ دارالعلوم غوثیہ قطبیہ سیون بازید پور ضلع ایودھیا فیض اباد یوپی۔ بسم ﷲ الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب زندگی بسر کرنے میں آدمی کوجس چیزکی ضرورت ہو وہ حاجت اصلیہ ہے مثلا رہنے کامکان، خانہ داری کے سامان پہننے کے کپڑے کھانے پینے کی چیزیں سفر کرنے کے لئے سواری خدمت کے لیے لونڈی غلام، آلات حرب، پیشہ وروں کے اوزار، اہل علم کے لیے حاجت کی کتابیں وغیرہ۔ صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں: "حاجت اصلیہ یعنی جس کی طرف زندگی بسر کرنے میں آدمی کو ضرورت ہے اس میں زکاۃ واجب نہیں، جیسے رہنے کا مکان، جاڑے گرمیوں میں پہننے کے کپڑے، خانہ داری کے سامان، سواری کے جانور، خدمت کے لیے لونڈی غلام، آلات حرب، پیشہ وروں کے اوزار، اہل علم کے لیے حاجت کی کتابیں ، کھانے کے لیے غلہ۔ ” اھ (بہار شریعت حصہ ٥، ج١ ، ص٨٨٠، زکوٰۃ کا بیان ، مکتبۃ المدینہ کراچی) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب ۔ کتبہ: گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی ۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات