دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #14
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
تقدیر (قسمت) پر ایمان لانے کا مفہوم
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: August 12, 2026
0
11,293
سوال (Question):
اگر سب کچھ تقدیر میں پہلے سے لکھا ہے تو انسان کو اس کے اعمال کی سزا کیوں ملے گی؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
تقدیر کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے علمِ کامل سے پہلے ہی جانتا ہے کہ بندہ اپنے ارادے اور اختیار سے کیا کرے گا، اور اللہ نے وہی لکھ دیا ہے۔ اللہ کے لکھنے کی وجہ سے بندہ مجبور نہیں، بلکہ بندے نے جو اپنے اختیار سے کرنا تھا، اللہ نے وہ پہلے لکھ دیا۔ انسان کو اعمال کا اختیار دیا گیا ہے اور اسی اختیار کا حساب روزِ قیامت ہوگا۔ تقدیر پر ایمان کا مطلب یہ ہے کہ بھلائی اور برائی سب اللہ کی طرف سے اور اس کے علم میں ہے۔ واللہ اعلم۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat