بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1356 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
روزہ افطار کی دعا کس وقت پڑھنی چاہیے افطار سے پہلے یا بعد؟
کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ افطاری کی دعا کس وقت پڑھنی چاہیے افطاری کرنے سے پہلے یا کہ افطاری کرنے کے بعد ،ہمارے یہاں کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ افطاری سے پہلے پڑھنی چاہیے اور کچھ کا کہنا ہے کہ بعد میں، قرآن کریم سے اور احادیث مبارکہ سے واضح طور پر بیان فرمائیں. محمد اسلم رضا تھنہ منڈی راجوری الجواب بعون الهادى الى الحق والصواب:- روزہ افطار کی دعا افطار کے بعد پڑھنی چاہیے یہی سنت ہے- حدیث شریف میں ہے” عن معاذبن زهرة أنه بلغه: أن النبي صلي الله عليه وسلم كان اذا أفطر قال اللهم لك صمت، وعلى رزقك أفطرت”(سنن أبي داود،رقم الحديث:۲۳۵۸،کتاب الصوم، باب القول عند الافطار) حضرت علامہ علی قاری قدس سرہ السامی اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں "(کان اذا أفطر قال) أى دعا، وقال ابن الملك:أى قرأ بعد الافطار،اھ”(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح ج ۴ ص۱۳۸۷/دار الفکر بیروت،لبنان فتاوی رضویہ شریف میں ہے "مقتضائے دلیل یہ ہے کہ یہ دعا روزہ افطار کر کے پڑھے”(ج ۴ ص ۴۵۶) ان حوالوں سے ثابت ہوا کہ اس دعا کا وقت بعدِ افطار ہے۔لیکن پہلے پڑھنے والوں کو یہ مسئلہ اس طرح بتانا اور بعد میں پڑھنے کی عادت ڈالنے کی تدبیر کرنی چاہیے، جس سے وہ بعد میں یہ دعا پڑھنا جاری رکھیں، اور ایسا نہ ہو کہ پہلے اور بعد دونوں وقت پڑھنا بند کردیں۔ کیوں کہ اس دعا کا وقت اگرچہ بعد افطار ہے لیکن پہلے بھی دعا پڑھنا منع نہیں ہے۔واللہ سبحانہ وتعالی اعلم کتبہ:-محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ خادم دار العلوم نظامیہ نیروجال راجوری جموں وکشمیر-مقیم حال اجمیر معلی زادہ اللہ تعالی عزا وشرفا الجواب صحيح :محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ