لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

تناسخ اور آواگون کسے کہتے ہیں اور اسلامی نقطہ نظر سے اسکی کیا حیثیت ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

تناسخ اور آواگون کسے کہتے ہیں اور اسلامی نقطہ نظر سے اسکی کیا حیثیت ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع عظام مسئلہ ذیل میں کہ تناسخ اور آواگون کسے کہتے ہیں اور اسلامی نقطۂ نظر سے اس کی کیا حیثیت ہے؟ المستفتیہ:- ماہین فاطمہ بنت محمد نصیر الدین نقشبندی تھنہ منڈی راجوری جموں وکشمیر الجواب بعون الهادى الى الحق والصواب ہندوؤں کے اعتقاد کے مطابق مرنے کے بعد انسان کی روح کسی دوسرے بدن میں چلی جاتی ہے خواہ وہ انسان کا بدن ہو یا کسی جانور کا اسی کو تناسخ اور آواگون کہتے ہیں اسلامی نقطہ نظر سے یہ نظریہ باطل محض ہے اور اس کا اعتقاد کفر ہے- النبراس میں ہے "التناسخ هو انتقال الروح من جسم الى جسم أخر وقد اتفق الفلاسفة وأهل السنة على بطلانه،وقال بحقيقته قوم من الضلال،فزعم بعضهم أن كل روح ينتقل في مأة ألف وأربعة وثمانين من الأبدان،وجوز بعضهم تعلقه بأبدان البهائم بل الأشجار والأحجار على حسب جزاء الأعمال السيئة، وقد حكم أهل الحق بكفر القائلين بالتناسخ،والمحققون على أن التكفير بانكارهم البعث”(النبراس، باب البعث حق ص ۲۱۳) بہار شریعت میں ہے” یہ خیال کہ وہ روح کسی دوسرے بدن میں چلی جاتی ہے خواہ وہ آدمی کا بدن ہو یا کسی اور جانور کا جس کو تناسخ اور آواگون کہتے ہیں-محض باطل اور اس کا ماننا کفر ہے”(ج ۱ ح ۱ ص ۱۰۳/مکتبتہ المدینہ دعوت اسلامی) فتاوی امجدیہ میں اسی طرح کے سوال کے جواب میں ہے”اس قول سے ظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ شخص تناسخ یعنی آواگون کا قائل ہے،کیونکہ وہ کہتا ہے کہ اپنے اعمال کے مطابق باردیگر پیدا ہونا ہے جس کا صاف مطلب یہ کہ اگر اس کے اعمال اچھے ہوں تو اس کی روح اچھے جسم میں جنم لیتی ہے،اور برے اعمال ہوں تو جانور وغیرہ کے جسم جنم ہوتا ہے اور تناسخ کا قول باطل محض ہے،مسلمان تو مسلمان کسی اہل کتاب یہود ونصاری کے نزدیک بھی درست نہیں– بالجملہ یہ قول ضلالت وگمراہی ہے، اللہ تعالی مسلمانوں کو گمراہی سے بچائے،ملتقطا”(ج ٤ ص ٤٤٤) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم کتبہ:- محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ خادم دار العلوم نطامیہ نیروجال راجوری جموں وکشمیر-مقیم حال اجمیر معلی زادها اللہ تعالی فضلا وشرفا ١٤/رمضان المبارك ١٤٤٣ھ مطابق ۱۶/اپریل ۲۰۲۲ء الجواب صحيح :محمد نظام الدین قادری خادم افتا ودرس جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات