بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1274 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
غیر مسلم سے مچھلی خریدنا کیسا ہے ؟
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے متعلق کہ غیر مسلم سے مچھلی خرید کر کھانا جائز ہے یا نہیں؟ سائلہ :بنت عباس اَلْجَــــــــــــــــــوَاب مذکورہ صورت میں غیر مسلم سے مچھلی خرید کر کھانا بالکل جائز ہے چاہے اس نے خود شکار کیا ہو یا اس کے ہاتھوں میں مرگئ ہو کیونکہ مچھلی میں ذبح شرط نہیں ہے- (سیدی اعلیٰ حضرت سے سوال ہوا کہ جس شخص کے ہاتھ کا ذبح ناجائز ہے جیسے کہ ہنود، اس کے ہاتھ کی پکڑی مچھلی کھانا کیسا ہے؟ تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے جواباً تحریر فرمایا: جائز ہے، اگرچہ اس کے ہاتھ میں مرگئی یا اس نے مار ڈالی ہو کہ مچھلی میں ذبح شرط نہیں، جس میں مسلمان یا کتابی ہونا ضروری ہو- (فتاویٰ رضویہ جلد20،صفحہ، 323- رضا فاؤنڈیشن لاہور) واللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم ﷺ کتبــہ :ابورضا محمد عمران عطاری مدنی عفی عنہ
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ