بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1271 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
لائٹ سولر وغیرہ اگر گورنمنٹ کی طرف سے مساجد میں لگوانے کے لئے مفت میں دیا جائے تو اس کا لگانا کیسا؟
سوال : علماء کرام کی بارگاہ میں ایک عریضہ پیش خدمت ہے کہ اگر کوئی چیز یعنی لائٹ سولر وغیرہ اگر گورنمنٹ کی طرف سے مساجد میں لگوانے کے لئے مفت میں دی جائے تو کیا اس کا لگانا شرعا جائز ہے کہ نہیں جواب سے آگاہ کریں ؟؟ الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب گورنمنٹ کی طرف سے فراہم کردہ بجلی یا کوئی دیگر سامان کا استعمال مسجد و مدرسہ وغیرہ میں کرسکتے ہیں کوئی مضائقہ نہیں ۔ اس کے متعلق (” فتاویٰ مرکز تربیت افتاء” ج: (٢) ص: (١٩٥) پر ہے کہ ) ” میونسپلٹی فنڈ, یا ایم ایل اے, یا ایم پی, یادیگر اور کسی بھی سرکاری فنڈ کی رقم سے مسجد بنانا, یا مسجد کا وضو خانہ, مسجد کی چہار دیواری ( باؤنڈری وال) یا مسجد کا بیت الخلاء وغیرہ بنوانا درست ہے – کیونکہ گورنمنٹ کے خزانہ سے جاری رقم ہمیں میونسپلٹی کے ذریعے ملے یا ایم پی, ایم ایل اے کے ذریعہ اسے مسجد کی تعمیر و مرمت کے لئے لینا اور مسجد میں صرف کرنا جائز و درست ہے – اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : ‘ خزانہ والئ ملک کی ذاتی ملک نہیں ہوتا اس کے لینے میں حرج نہیں – جب کہ کسی مصلحت شرعیہ کے خلاف نہ ہو ‘ ("فتاوی رضویہ” ج :(٦) ص: (۴۶۰) وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم کتبہ:محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ