دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #1268
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
جس نے اذان دی ہو اس کے علاوہ دوسرا اقامت کہہ سکتا ہے؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
12,606
سوال (Question):
جس نے اذان دی ہو اس کے علاوہ دوسرا اقامت کہہ سکتا ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
جس نے اذان دی ہو اس کے علاوہ دوسرا اقامت کہہ سکتا ہے؟
الجواب اقامت اسی کا حق ہے جس نے اذان پڑھی ہو اذان دینے والے کی اجازت سے دوسرا بھی کہہ سکتا ہے اور اگر بغیر اجازت کہی اور مؤذن کو ناگوار ہو تو مکروہ ہے- ( سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں، کہ اگر مؤذن موجود ہے تو اس کی اجازت کے بغیر کوئی دوسرا تکبیر نہ کہے اور امام کے لئے بھی مناسب نہیں، کہ شرعی عذر کے بغیر کسی دوسرے کو تکبیر کے لئے کہے، شرعی عذر مثلًا اس کی اقامت لحن پر مشتمل ہو، اجازت مؤذن کے بغیر اقامت کہنا مناسب نہیں کہ شاید وہ اسے ناپسند کرتا ہو- (فتاویٰ رضوریہ جلد5،صفحہ418) واللہ اعلم عزوجل و ر سولہ اعلم ﷺ
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat