لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

رات میں ناخن کاٹنا کیسا ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

رات میں ناخن کاٹنا کیسا ؟

مفتی صاحب کیا رات میں ناخن کاٹنا درست ہے ؟ المستفتی: مولانا جاوید فیضی مہراج گنج یوپی انڈیا۔ الجواب بعون الملک الوھاب درست ہے۔ فتاوی عالمگیری میں ہے: "حكي أن هارون الرشيد سأل أبا يوسف – رحمه الله تعالى – عن قص الأظافير في الليل؟ فقال: ينبغي، فقال: ما الدليل على ذلك؟ فقال: قوله عليه السلام: الخير لايؤخر” اھ (ج٥، ص٣٥٨، کتاب الکراھیۃ، الباب التاسع عشر فی الختان والخصاء وقلم الاظفار…) عبّاسی خلیفہ ہارون رَشید نے امام ابو یوسف علیہ الرحمۃ سے رات مىں ناخن تراشنے (یعنی کاٹنے)کے بارے میں دَرْیافْت کیا تو آپ نے فرمایا: جائز ہے۔ ہارون رشید نے کہا: اس پر کیا دلیل ہے؟تو آپ نے فرمایا:حدیثِ پاک میں ہے:”اَلْخَيْرُ لَا يُؤَخَّرُ“یعنی بھلائى کے کام مىں تاخیر نہ کى جائے۔ واللہ تعالیٰ ورسولہ ﷺ اعلم بالصواب۔ کتبہ: محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔ صدر میرانی دار الافتاء وشیخ الحدیث جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات