بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1240 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
مردے کو دفن کرنے کے بعد چالیس قدم چل کر دعا مانگنا ضروری ہے؟
الجواب بعون الملک الوھّاب میت کو دفن کرنے کے بعد اس کے لئے دعائے مغفرت کرنا تو کسی بھی وقت جائز ہے چالیس(40)قدم چل کر دعا کرنا لازم و ضروری نہیں ہے- (سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے سوال ہوا کہ قبر سے چالیس قدم جاکر دعا مانگنا کیسا؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ دعا مانگنا ہر وقت جائز ہے اور چالیس قدم کی خصوصیت بلاوجہ- (فتاویٰ رضویہ جلد9، صفحہ615- مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) (فتاویٰ رضویہ جلد5 میں ہے، کہ دفن کے بعد دعا سنت ہے۔ امام محمد بن علی حکیم ترمذی قدس سرہ الشریف دعا بعد دفن کی حکمت میں فرماتے ہیں، کہ نماز جنازہ بجماعت مسلمین ایک لشکر تھا کہ آستانہ شاہی پر میت کی شفاعت وعذر خواہی کے لیے حاضر ہُوا اور اب قبر پر کھڑے ہوکر دُعا، یہ اس لشکر کی مدد ہے کہ یہ وقت میت کی مشغول کاہے کہ اُسے اُس نئی جگہ کا ہول اور نکیرین کا سوال پیش آنے والا ہے، سیدی اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں، میں گمان نہیں کرتا کہ یہاں استحبابِ دعا کا عالَم میں کوئی عالِم منکر ہو- (فتاویٰ رضویہ جلد5،صفحہ661- مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن،لاھور) واللہ اعلم عزوجل و ر سولہ اعلم ﷺ
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ