بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1225 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
رکاڈنگ یا لائیو آیتِ سجدہ سننے سے سجدہ کا حکم
ابورضا محمد عمران عطاری عفی عنہ کیا فر ماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ رکا ڈنگ یا ٹیلی ویژن پر لائیو آیت سجدہ سننے سے سجدۂ تلاوت واجب ہوگا یا نہیں؟ الجـــــوابــــــــــــ” بعون الملک الوھّاب مذکورہ صورت میں موبائل یا ٹیلی ویژن پر آیتِ سجدہ سننے سے سجدۂ تلاوت واجب نہیں ہوگا چاہے لائیو(براہِ راست) سنی ہو یا ریکارڈنگ کے ذریعے سنی ہو کیونکہ یہ صدائے بازگشت(گونج) کے حکم میں ہے اور فتویٰ اسی پرہے کہ جو تلاوت صدائے بازگشت کے حکم میں ہو اس پر سجدہ تلاوت واجب نہیں ہوگا- صدائے بازگشت سے مراد وہ آواز ہے جو پہاڑ یا صحراء وغیرہ میں آپ کو آپ کی آواز کی طرح جواب دیتی ہے- سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فتاویٰ رضویہ شریف میں اس پر بڑا تحقیقی جواب تحریر فرمایا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے- کہ گنبد کے اندر یا پہاڑ یا چکنی گچ کردہ دیوار کے پاس اور کبھی صحرا میں بھی خود اس پنی آواز پلٹ کر دوبارہ سنائی دیتی ہے جسے عربی میں صدا کہتے ہیں، ہمارے علماء تصریح فرماتے ہیں کہ اس کے سننے سے بھی سجدہ واجب نہیں ہوتا، نہ خود قاری پر نہ سامع اول پر جس نے تلاوت سن کر دوبارہ یہ گونج سنی نہ نئے پر جس نے پہلی تلاوت نہ سنی تھی اور یہ صداہی سنی کہ حکم مطلق ہے- (فتاویٰ رضویہ جلد23، صفحہ 448- مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) (مزید فرماتے ہیں مختصر یہ ہے کہ سجدہ سماعِ اول پر ہے، نہ کہ مُعاد پر، اگرچہ خاص اس سامع کی نظر سے مکرر نہ ہو اور شک نہیں کہ سماعِ صدا، سماعِ معاد ہے اور فونو کی تو وضع ہی اعادہ سماع کے لئے ہوئی ہے، لہٰذا ان سے ایجابِ سجدہ، سجدہ واجب)نہیں- (فتاویٰ رضویہ جلد23، صفحہ 452- رضا فاؤنڈیشن لاہور) واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ