لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

حالت حیض میں موبائل میں قرآن کریم پڑھنے کا حکم

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

حالت حیض میں موبائل میں قرآن کریم پڑھنے کا حکم

سوال : کیا عورت حیض کے دوران موبائل سے دیکھ کر قرآن مجید پڑھ سکتی ہے؟ سائل : عارف رضا رضا چوک مالیگاؤں الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب  حالتِ حیض میں قرآن کریم کی تلاوت کرنا جائز نہیں ہے، چاہے مصحف سے پڑھے یا موبائل میں دیکھ کر پڑھے۔ حدیث شریف میں ہے: عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: ” لا تقرا الجنب ولا الحائض " (سنن ترمذی، حدیث نمبر: 131) حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:  حائضہ اور جنبی قرآن میں سے کچھ نہ پڑھیں۔ لما فی سنن الدارقطني: عَنْ جَابِرٍ  قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:  «لَا تَقْرَأِ الْحَائِضُ وَلَا النُّفَسَاءُ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْئًا» (ج:2، ص: 462،ط:مؤسسة الرسالة، بيروت) البحرالرائق میں ہے: "( قوله : وقراءة القرآن ) أي يمنع الحيض قراءة القرآن وكذا الجنابة؛ لقوله صلى الله عليه وسلم: « لاتقرأ الحائض ولا الجنب شيئاً من القرآن ». رواه الترمذي وابن ماجه”.  (2/274)  وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات